مزار کہانی: ’ملنگوں کی صحبت‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں صوفیاء کرام کے مزاروں پر شوقیہ رباب بجاتاہوں۔ مجھے بچپن سے موسیقی سننے کا شوق تھا۔ میں چھوٹا تھا تو مزاروں پر موسیقی کی محفلوں میں شرکت کرتا تھا جس کی وجہ سے یہ شوق بڑھ گیا۔ صوبہ سرحد میں جو صوفیاء کرام کے مزار ہیں ان پر ہر سالانہ عرس کے موقع پر منعقد ہونے والی محفلوں میں رباب کی دھن پر عارفانہ کلام پیش کیا جاتا ہے۔ رباب بنیادی طور پر پشتو موسیقی کا مقبول ساز ہے۔ اس کی ابتداء افغانستان سے ہوئی۔ اسے فقیری کا ساز بھی کہا جاتا ہے اور اس میں مستی کا تاثر ملتا ہے۔ اگرچہ اسلام میں موسیقی منع ہے لیکن اولیاء کرام کا کلام پیش کرنے کے ساتھ اسے برا نہیں سمجھا جاتا۔ میں نے رباب کی باقاعدہ تربیت حاصل کی ہے اور تقریباً پندرہ سال سے بجا رہا ہوں۔ میں نے تقریباً تین سال کے عرصہ میں اسے بجانا سیکھا ہے۔ رباب میں کل انیس تار ہوتے ہیں اور ہر تار کا اپنا اپنا سر ہوتا ہے۔ یہ ستار اور گیٹار سے بہت مختلف ہے اور اسے بجانا خاصا مشکل ہے۔ میرا تعلق لنڈی ارباب گاؤں سے ہے جو پشاور شہر کا حصہ ہے۔ میں سائیکلوں کے پارٹس بناتا ہوں اور یہی میرا بزنس بھی ہے۔ میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد میں ٹیلی فون کے محکمے میں لائن مین بھرتی ہوگیا لیکن کچھ عرصے کے بعد مجھے یورپ جانے کا ایک موقع ملا جو میں نے ضائع نہیں کیا اور جرمنی چلا گیا۔ میں نے چھ سال جرمنی میں گزارے اور اس دوران یہاں ہونے والے موسیقی کے پروگراموں میں رباب بجاتا رہا۔ جرمنی میں ایک صحافی نے مجھے پروموٹ کیا اور اس کے توسط سے میں نے کئی شوز میں شرکت کی اور رباب بجانے کا مظاہرہ کیا۔ رباب یورپ میں یقینی طور پر ایک نئی چیز تھی۔ میری عمر تیس سال ہے، شادی نہیں ہوئی البتہ منگنی ہو چکی ہے۔ مجھے صوفیاء کے مزاروں پر جا کر بہت سکون ملتا ہے۔ میرے دوستوں کا ایک گروپ ہے جو اولیاء کرام سے لگاؤ رکھتے ہیں۔ پختون معاشرے میں میوزک جیسے شوق کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ ابتداء میں مجھے بھی مشکلات کا سامنا رہا لیکن جب میرے خاندان والوں کو پتہ چلا کہ میں رباب پیسوں کے لیے نہیں بجاتا تو وہ قدرے خاموش ہو گئے۔ ہم ہفتے میں کسی ایک مزار پر حاضری دینے ضرور جاتے ہیں۔ تقریباً ہم سبھی دوست کاروبار کرتے ہیں اور پورا ہفتہ کام کر کے بور ہوجاتے ہیں۔ لوگوں کے مختلف مشغلے ہوتے ہیں، ہمارا شوق مزاروں کی سیر اور وہاں پر رباب کی محفل گرم کرنا ہے۔ رباب بجانا میرا پیشہ نہیں بلکہ محض میرا شوق ہے۔ رباب بجانے کا لطف جتنا اولیاء کرام کے مزاروں اور ملنگوں کی صحبت میں آیا کہیں اور نہیں آیا۔ نوٹ: قاضی ہمایوں نے اپنی یہ کہانی پشاور میں ہمارے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی سے گفتگو کے دوران سنائی۔ اگر آپ بھی ایسے یا اس سے ملتے جلتے حالات سے گزرے ہوں تو اپنی کہانی ہمیں براہ راست بھیج سکتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں گے تو ہم آپ کا نام شائع نہیں کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||