معاف کیجیے گا کچھ لوگوں کو جٹ، گجُر، ملک، بلوچ، سید، کھتری، برہمن ہونے پر بھی فخر ہوتا ہے جیسے کہ یہ سب ذاتیں ان لوگوں کو پیدائش سے پہلے کوئی کمال دکھانے کے عوض ملی ہوں۔ میں نے انتہائی پڑھے لکھے جٹوں کو اس بات پر فخر کرتے سنا ہے کہ بقول ان کے جٹ کا مطلب بادشاہ ہوتا ہے۔ لاہور کی انجنیرنگ یونیورسٹی میں کافی سال پہلے ایک طالب علم اپنا تعارف کراتے ہوئے فخر سے کہتے تھے کہ ’ماشاللہ اسی گجر ہونے ہاں‘۔ اس موضوع کا مجھے خیال کیسے آیا؟ دراصل آجکل پرتگال میں یورپین فٹبال ٹورنامنٹ جاری ہے۔ اور کیونکہ میں لندن میں مقیم ہوں تو مجھے صبح شام سننا پڑتا ہے کہ انگریزوں کو انگریز ہونے پر کتنا فخر ہے۔ جیسے گیارہ ستمبر کے بعد سے امریکیوں کے امریکی ہونے پر فخر کا اظہار سن سن کر طبعیت کم بیزار تھی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان امریکیوں اور انگریزوں کو معلوم ہی نہیں کہ دنیا میں جٹ، گجر، سید اور ملک بھی بستے ہیں۔ پاکستان میں لاکھوں لوگوں کو اس بات پر فخر ہے کہ ان کا تعلق اس ذات سے ہے جسے انگریزوں نے کسی زمانے میں ’مارشل ریسز‘ یا لڑاکا نسلوں کے کھاتے میں ڈالا تھا۔ اسی چکر میں انہوں نے اپنی زندگیاں لڑنے کے نام کر دی ہیں اور یہی ان کے فخر کا اظہار ہے۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ اگر کسی کو اپنے اوپر فخر نہیں ہے تو وہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی محنت سے دنیا کو کچھ دیا ہو۔ | |   | | تازہ ترین خبریں | |
|