’دنیا ہمیں بھلا چکی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں رہنے والے ڈاکٹر اعجاز رشید رابودی بی بی سی آن لائن استعمال کرنے والوں میں سے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیر میں رہنے والے ہزاروں خاندانوں کی طرح وہ بھی ایل او سی کے دوسری طرف اپنے رشتہ داروں سے رابطہ کھو چکے ہیں۔ یہ ان کی کہانی ہے۔ ’انیس سو سینتالیس میں میری دادی اپنے بھائی سے، جو کہ اس وقت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کام کر رہے تھے، الگ ہو گئیں۔ تیس سال پہلے ان دونوں کے بیچ رابطہ بالکل ہی ختم ہو گیا۔ تب سے آج تک وہ کئی بار اپنے بھائی عبدل کی یاد میں آنسو بہا چکی ہیں اور اس دوری کا اثر ہمارے پورے خاندان پر پڑا ہے۔ کچھ عرصہ تک دونوں ایک دوسرے کو چٹھیاں لکھا کرتے تھے مگر لگ بھگ تیس سال پہلی ان کے خط آنے بند ہو گئے اور تب سے آج تک ان کی کوئی خبر نہیں۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے انہیں کبھی ویزا نہیں دیا گیا۔ ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ وہان ان کے گھر میں کون کون ہے اور ہمارے وہاں ایسے رشتہ دار بھی موجود ہو سکتے ہیں جن کے بارے میں ہم جانتے تک نہیں۔ کشمیر میں نہ جانے کتنے لوگ میری دادی کی طرح اپنے چاہنے والوں سے ایل او سی کی وجہ سے رابطہ کھو چکے ہیں۔ ایک دوسرے سے ملنا تو دور، ایک دوسرے سے بات کرنا تک ممکن نہیں ہو پاتا۔ ان حالات کی ذمہ دار بھارتی اور پاکستانی حکومتیں ہیں اور ان کا حل بھی دونوں اطراف کے اہلکاروں کے ہاتھوں میں ہے جبکہ اسے بھگت کشمیر کے عام لوگ رہے ہیں جو صرف امن چاہتے ہیں اور کشمیر کے دونوں طرف آنے جانے کی آزادی چاہتے ہیں۔ ہم تو اپنے حالات کے بارے میں بات تک کرنے سے ڈرتے ہیں۔ بھارتی حفاظتی افواج کا خوف ہماری روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن گیا ہے۔ وہ ہمیں زبردستی ووٹ ڈالنے لے جاتے ہیں اور ووٹ کس کے حق میں ڈالنا ہے یہ بھی وہی بتاتے ہیں۔ میرا ایک کزن ہے جسے بھارتی افواج نے بغداد کے ابو غریب جیل جیسے حالات میں قید کر رکھا تھا۔ اس پر الزام یہ تھا کہ وہ حزبِ اختلاف کی ایک تنظیم کا کارکن ہے۔ وہ ایک عام نوجوان تھا اور بارھویں جماعت کے امتحانات کی تیاری میں مصروف تھا۔ اس کے ساتھ بہت بد سلوکی کی گئی اور جب وہ چھوٹ کے باہر آیا تو اس کے پورے بدن پر سگریٹ کے نشان تھے۔ جس خوف میں ہم اپنے دن گزارتے ہیں، یہ اس کی ایک مثال ہے۔ ہم عراقیوں کی طرح خوش قسمت نہیں۔ کم سے کم دنیا بھر کا میڈیا ان پر ہو نے والے ظلم سے واقف تو ہے۔ اگر ایل او سی ختم ہو جائے تو شاید ہمارے حالات کچھ بہتر ہو جائیں۔ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے میں نے اس بٹوارے کے لوگوں پر اثرات قریب سے دیکھیں ہیں۔ میری دادی بھارتی اور پاکستانی حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہراتی ہیں اور دونوں ہی کو کوستی ہیں۔ جہان تک میرا خیال ہے حالات جلد ہی بہتر ہو نے والے نہیں ہیں کیونکہ دونوں ہی طرف کی حکومتیں یہ بھول گئی ہیں کہ یہ مسئلہ صرف زمین کا نہیں ہے، بلکہ کشمیریوں کی زندگیوں کا ہے۔ ہمیں تو دنیا بھلا چکی ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||