| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کا واحد رجسٹرڈ چرسی
صوبہ سرحد کے مشہور شہر پشاور کی عام شہرت دو وجہ سے ہے۔ یکم پٹھان اور دوّئم نمک منڈی۔ جو لوگ نمک منڈی کے بارے میں جانتے ہیں انہوں تو کوئی ضرورت نہیں ہوگی لیکن جو اس منڈی سے ناواقف ہیں انہیں یہ جان کر شاید حیرت ہوگی کہ پشاور کی نمک منڈی میں نمک فروخت نہیں ہوتا بلکہ اس کی وجہ شہرت دو نمبر یعنی سملگل شدہ ادویات اور ’چرسی‘ کے تکّے ہیں۔ قارئین یہ سن کر پریشان نہ ہوں اور نہ دل میں کوئی ایسا خیال لائیں کہ پشاور کے تکے فروش کوجس کا نام نثار ہے، جان بوجھ کر چرسی کہا گیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو چرسی کہلوانا پسند کرتا ہےاور اس کی سب سے بڑی دلیل اس کی دوکان کے سامنے لگا ایک سائن بورڈ ہے۔ عام طور پر لوگ چرسیوں کو پسند نہیں کرتے مگر یہ پاکستان کا واحد رجسٹرڈ چرسی ہے۔
چرسی کے بنائے ہوئے تکوں اور کڑاہی میں کیا خاص بات ہے یہ تو کھانے والے ہی بتا سکتے ہیں مگر اس کی دوکان پر ہمہ وقت ننگے دنبوں اور سفید پوش انسانوں کا رش اس بات کی دلیل ہے کہ روزانہ پندرہ سولہ دنبوں کو (جن کا اوسط وزن سولہ کلو ہوتا ہے) انسانی اشتہا کی بھینٹ چڑھانے کا فریضہ قدرت نے نثار چرسی کے سپرد کر رکھا ہے۔ چرسی کے مطابق یہ دوکان پہلے اس کے والد صاحب چلاتے تھے۔ اور یہ دوکان بھی نہیں تھی محض ایک کھوکھا تھا۔ والد کی وفات کے بعد نثار چرسی نے اس دکان کا چارج سنبھالہ اورتیس سال کی دن رات کی محنت سے یہ مقام حاصل کیا کہ اب یہ دکان باقاعدہ ریسٹورنٹ کی شکل اختیار کر گئی ہے جس کا نام شیش محل رکھا گیا۔ دکان کا سارا کام چرسی خود مانیٹر کرتا ہے اور تمام ملازمین کے سر پر کھڑا ہو کر کام کرواتا ہے۔ اور بوقت ضرورت خود بھی کام کرنے لگتا ہے۔ چرسی کی زندگی دوکان مسجد اور گھر کی تکون میں بند ہے۔ سیاست کے بارے میں چرسی کا کہنا ہے ’ہم غریب لوگ ہیں سیاست امیروں کا کام ہے۔ ہمارے یہاں جو بھی آئے گا ہم اسی کے نعرے لگائیں گے مگر اچھا صرف اسی کو جانے گا جو ہماری فلاح و بہبود کے لئے کام کرے گا۔‘ چرسی نے اپنی کھانے بنانے کی ترکیب بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا ’یہ محنت کا ذائقہ ہے۔ دوسرا ہم کوئی گھی یا مصالحے استعمال نہیں کرتے بلکہ دنبے کے گوشت کو اس کی چربی میں پکاتے ہیں اور یہی محنت ہماری کامیابی کا راز ہے۔‘
سوال یہ کہ پاکستان میں مشہور چرسی تکہ فروش جس کی آمدن بھی بے شمار ہے، اپنے نام کی ساتھ چرسی کیوں لکھتا ہے؟ چرسی نے نہایت سادہ سا جواب دیا ’ہم خود چرس پیتا ہے اس لئے نام چرسی لکھتا ہے‘ کیا قدرت کو اس کی یہی حق گوئی پسند آئی ہے جو اسےاتنی ترقی دی ہے؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||