BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 March, 2008, 05:00 GMT 10:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اولمپک بائیکاٹ کی اپیل مسترد
یورپی وزرائے خارجہ
یورپی وزرائے خارجہ سلوینیا میں اجلاس کے موقع پر
برطانیہ اور کئی دوسرے یورپی ملکوں نے بیجنگ میں اولمپک کھیلوں کی افتتاحی تقریب کے بائیکاٹ کی اپیل مسترد کر دی ہے۔ یہ تقریب اگست میں ہونے والی ہے۔

بائیکاٹ کی اپیل انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے کی گئی تھی جن کا کہنا ہے کہ تبت میں احتجاج کو کچلنے کے خلاف چین کو ناپسندیدگی کا ایک سخت پیغام ملنا چاہیے۔

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ یورپی یونین انسانی حقوق کے حوالے سے چین کا نوٹس لے رہی ہے۔

تبت کے معاملے کو سلوینیا میں ہونے والے یورپی یونین کے دو روزہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا گیا تھا۔

سلوینیا کے وزیرخارجہ دیمتری روپل نے جو یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے غیر رسمی اجلاس کی میزبانی کر رہے تھے کہا ہے کہ کھیلوں کو سیاست سے الگ رکھا جانا چاہیے۔

تاہم کچھ یورپی ملکوں نے جن میں چیکو سلواکیہ اور پولینڈ نے عدم شرکت کا اعلان کیا ہے۔ چیک صدر اور پولش وزیراعظم نے افتتاحی تقریب میں نے جانے کا اعلان کیا ہے۔

اس طرح جرمنی کے وزیر خارجہ فرینک والٹر نے بھی کہا ہے کہ جرمن چانسلر بیجنگ جانے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے، اس لیے اس کا منسوخی یا تبت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ایک یورپی ملک جس کے وزیراعظم بیجنگ کی افتتاحی تقریب میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں برطانیہ ہے اور خود برطانیہ دو ہزار بارہ کے اولمپک کھیلوں کی میزبانی کرنے والا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ’یہ ہم سب کے لیے انتہائی اہم ہے کہ اولمپکس کھیل کامیابی سے آگے چلیں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد