آلودگی تماشائیوں کے لیے خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی ادارۂ صحت سے تعلق رکھنے والے فضائی آلودگی کے ماہر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ آئندہ برس بیجنگ میں ہونے والے اولمپکس کے دوران کھلاڑیوں اور شائقین کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے ڈاکٹر مشل کرزیزنووسکی کا کہنا ہے کہ اگرچہ چینی حکام آلودگی کو کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاہم’زیادہ آلودگی کی وجہ سے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں اور خصوصاً دل کے مریض افراد کو اپنے سفر کے پروگرام پر نظرِ ثانی کرنا چاہیے‘۔ چین کے شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہیں اور عالمی بنک کی تحقیق کے مطابق دنیا کے بیس آلودہ ترین شہروں میں سے سولہ چین میں ہیں۔ ڈاکٹر مشل کرزیزنووسکی نے کہا کہ’ تمام شہر نہ صرف یورپی معیار کے ٹطابق خاصے آلودہ ہیں بلکہ ایشیائی معیار کو دیکھا جائے تو بھی چینی شہروں میں شرحِ آلودگی بہت زیادہ ہے‘۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ’ چینی شہروں میں سے بیجنگ آلودہ ترین شہروں میں سے ایک ہے‘۔
بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے سربراہ جیکس روگ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر صحتمندانہ ماحول موجود نہ ہوا تو کھیل ملتوی کیے جا سکتے ہیں جبکہ کچھ ممالک کا کہنا ہے کہ ان کے کھلاڑی اولمپکس میں شرکت کے لیے بیجنگ پہنچنے میں حتی الامکان تاخیر کریں گے تاکہ وہ آلودگی سے بچ سکیں۔ ڈاکٹر کرزیزنووسکی کا کہنا ہے کہ اگرچہ آلودگی سے اصل میں اس شہر کے لوگ متاثر ہوں گے تاہم اس میں تھوڑا عرصہ گزارنے سے کھلاڑیوں اور تماشائیوں پر بھی اس کے برے اثرات ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ چینی شہروں میں اصل مسئلہ ہوا میں آلودگی ہے، مضر عناصر کے وہ چھوٹے چھوٹے ذرات جو سانس کے راستے پھیپھڑوں میں سرایت کر جاتے ہیں۔ اس قسم کی صورتحال میں زیادہ وقت گزارنے والوں کی عمر پر بھی اس کے منفی اثرات پڑتے ہیں۔‘ تاہم ڈاکٹر کرزیزنوسکی کا مزید کہا تھا کہ ’ بیجنگ میں آنے والے کھلاڑیوں کو ان خطرات کا سامنا نہیں ہوگا کیونکہ یہ لوگ نہایت صحتمند لوگ ہوں گے اور ان میں امراض قلب کی کوئی علامات نہیں ہوں گی۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ اولمپکس میں حصہ ہی نہیں لے سکتے اس لیے کھلاڑی اس گروپ میں شامل نہیں جنہیں بیمار ہو جانے کا خطرہ ہو۔‘ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر کرزیزنوسکی کھلاڑیوں سے زیادہ تماشائیوں کے لیے فکر مند ہیں۔ ’اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ وہ لوگ جن کی صحت بہت اچھی نہیں انہیں بھی بیجنگ کے کئی چکر لگانا پڑیں۔ اگر انہیں پہلے ہی دل یا شریانوں کی کوئی بیماری ہوئی تو ان کے شدید بیمار پڑ جانے کا خطرہ ہے، مثلاً دمے کے مریضوں کی حالت بگڑ سکتی ہے۔‘
آج یعنی جمعہ سے بیجنگ میں کاروں پر تین روزہ پابندی کے تجربے سے شہر میں فضائی الودگی پر اثر پڑ سکتا ہے، لیکن یہ ان پابندیوں میں سے ایک ہے جو اولمپک کمیٹی شہر میں لگائے گی۔ بیجنگ میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے لگائی جانے والی پابندیوں پر کل اخراجات کا تخمینہ چھ ارب ڈالر لگایا گیا ہے اور اس میں فیکٹریوں کو شہر سے باہر لیجانا، پانی کی صفائی کو بہتر بانا اور ذرائع آمد ورفت کو جدید بنانا شامل ہیں۔ لیکن ڈاکٹر کرزیزنوسکی ان پابندیوں کے ممکنہ اثرات کے بارے میں زیادہ پُرامید نہیں ہیں۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ بیجنگ میں فضائی آلودگی کے اسباب مقامی نہیں ہیں، ان کا کہنا تھا: ’مجھے بہت حیرت ہوگی اگر آئندہ بارہ ماہ میں فضا میں آلودگی پر خاطر خواہ قابو پا لیا جاتا ہے کیونکہ ہوا میں پائے جانے والے مضر ذرات سینکڑوں کلومیٹر تک کا سفر کر سکتے ہیں۔‘ ڈاکٹر کرزیزنوسکی نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ ’ یہ عین ممکن ہے کہ بیجنگ میں آلودگی ختم کرنے کے اقدامات کے فوائد پر دوسرے علاقوں سے آنے والے فضائی آلودگی کی وجہ سے پانی پھر جائے، تاہم ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ جو باتیں دنیا میں کہیں اور نہیں ہوتیں وہ چین میں ہو جاتی ہیں۔ شاید اس معاملے میں بھی ایسا ہی ہو اور مذکورہ اقدامات سے فضائی آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||