عالمی حدت : سڈنی میں ’بلیک آؤٹ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا کے سب سے بڑے شہر سڈنی میں عالمی حدت کو کم کرنے کی کوششوں میں ساتھ دینے کی غرض سے کارباری مراکز اور ہزاروں شہریوں نے روشنیاں گل کی ہیں۔ سنیچر کو مقامی وقت کے مطابق شام سات بج کر تیس منٹ پر مشہور اوپیرا ہاؤس پر بنے ٹاور بلاکس کی بتیاں بجھا دی گئیں اور اس کے اطراف میں بنے گھروں میں بھی کم و بیش یہی صورت حال تھی۔ اس کے علاوہ ہاربر برج، اور شہر کے تجارتی مرکز میں واقع آسمان کو چھوتی عمارتوں کی روشنیاں بھی ’ارتھ آور‘ نامی اس مہم کی حمایت نیو ساؤتھ ویلز گورنمنٹ، ماحولیات پر کام کرنے والی تنظیمیں اور تاجر برادری کر رہی ہے۔ سڈنی کو امید ہے کہ یہ مہم ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے ایک بڑی اور اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آئے گی۔ سڈنی دنیا کا پہلا شہر ہے جہاں عالمی حدت میں کمی کے حوالے سے اس قدر بڑے پیمانے پر ’بلیک آوٹ‘ کیا گیا ہے۔ شہر کے بہت سے ریستوران بھی اس مہم میں شریک ہیں اور اپنے ہاں آنے والے گاہکوں کو موم بتی کی روشنی میں کھانا پیش کر رہے ہیں۔ ’ارتھ آور‘ نامی اس مہم کو چلانے کا سہرا ماحولیات پر کام کرنے والی عالمی تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ایف کے سر جاتا ہے۔ آسٹریلیا میں اس تنظیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں کئی ماہ کی محنت شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کی تفصیلات بڑی دلچسپی کا باعث ہیں۔ ہر ٹاور بلاک کی ملکیت مختلف کمپنیوں کے پاس ہے۔ اس کے دس کرایہ داروں اور ایک مینیجر کے ساتھ مل کر اس منصوبے پر کام کا تجربہ بہت دلچسپ تھا۔ اس مہم کےمنتظمین کا مقصد یہی ہے کہ آسٹریلیا کے شہریوں کو بجلی بچانے کی ترغیب دی جائے اور ان میں اس بات کا شعور بیدار کیا جائے کہ وہ کس طرح آلودگی میں کمی لا سکتے ہیں۔ ہر روز لاکھوں کی تعداد میں کمپیوٹرز اور لائٹیں فلیٹوں، گھروں اور دفتروں میں میں جلتی چھوڑ دی جاتی ہیں۔ مہم میں شامل افراد کا کہنا ہے کہ فالتو جلائی جانی والی بتیوں کو اگر بند کردیا جائے تو اس سے ہی سڈنی میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اگلے سال تک پانچ فیصد تک کی کمی لائی جا سکتی ہے۔ آسٹریلیا فضا کو کثیف کرنے والی گیسیں جیسے کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرنے والا دنیا کا بڑا ملک ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہی زہریلی گیسیں زمین کے درجہ حرات میں اضافے کا سبب ہیں۔ | اسی بارے میں عالمی حدت میں اضافہ کیوں؟03 September, 2005 | نیٹ سائنس آلودگی میں کمی، حدت میں اضافہ08 April, 2006 | نیٹ سائنس ’ماحولیاتی حدت کا ذمہ دار انسان‘01 February, 2007 | نیٹ سائنس 2007 میں حدت اور بڑھےگی 04 January, 2007 | نیٹ سائنس عالمی حدت میں اضافہ حقیقت ہے18 February, 2005 | نیٹ سائنس عالمی حدت میں خطرناک اضافہ16 June, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||