2014 سرمائی اولمپکس سوچی میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سن دو ہزار چودہ کی سرمائی اولمپک کے لیے روس کے شہر سوچی کو منتخب کیا گیا ہے۔ اس بات کا فیصلہ گوئٹامالے میں بین الاقوامی کمیٹی کے اجلاس میں ہوا۔ سوچی کو جنوبی کوریا کے شہر پیونگ یانگ کے مقابلے میں چار ووٹ زیادہ ملے۔ اولمپک منعقد کرنے کا تیسرا امیدوار آسٹریا کا شہر سالزبرگ پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں خارج ہوگیا تھا۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن کو سوچی کی کامیابی کے لیے سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے اولمپک کمیٹی کے مندوبین سے تین زبانوں انگریزی، ہسپانوی اور فرانسیسی میں خطاب کیا۔ پوتن کے بارے میں قیاس کیا جا رہا ہے کہ وہ پہلے روسی صدر ہیں جنہیں کسی تقریب میں انگریزی زبان میں خطاب کرتے ہوئے سنا گیا ہے۔ سالزبرگ اور پیونگ یانگ کو سرمائی اولمپک کے انعقاد کے لیے دوسری بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سے پہلے یہ فیصلہ کینیڈا کے شہر وینکوور کے حق میں ہوا تھا جہاں اب سن دو ہزار دس کی سرمائی اولمپک ہو گی۔ گوئٹامالے میں ووٹنگ کے فوراً بعد آتشبازی کا مظاہرہ ہوا اور بڑی تعداد میں لوگ شہر کے مرکز میں جمع ہو گئے۔ بہت سے لوگوں نے رات بھر کامیابی کا جشن منایا۔ پیونگ یانگ اور سالزبرگ میں لوگوں کو ناکامی سے سخت مایوسی ہوئی اور ذرائع ابلاغ کے مطابق کچھ لوگوں کو روتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ دونوں شہروں میں بھی سالزبرگ کی طرح فیصلہ سننے کے لیے لوگ شہر کے مرکز میں بڑی تعداد میں جمع تھے اور بڑی سکرین پر فیصلہ براہ راست سن رہے تھے۔ | اسی بارے میں میزائلوں کے سائے میں اولمپک گیمز28 July, 2004 | کھیل اولمپک کی مشعل روشن ہوگئی25 March, 2004 | کھیل اولمپِکس: بھارت پیشکش دے گا12 January, 2004 | کھیل اولمپک دوہزار آٹھ کا نشان | کھیل ’ہمارے پاس ایک پیسہ نہیں ہے‘ 17 April, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||