’ہمارے پاس ایک پیسہ نہیں ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اولمپک کونسل آف ایشیاء نے اپنے دو روزہ اجلاس میں پاکستان کے لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ ) عارف حسن کو بلامقابلہ نائب صدر منتخب کرلیا ہے۔ عارف حسن پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر اور پاکستان سپورٹس ٹرسٹ کے چیئرمین ہیں۔ لیفٹننٹ جنرل( ریٹائرڈ) عارف حسن ملک میں کھیلوں کا مربوط نظام نہ ہونے کے شاکی ہیں۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت کا کھیلوں کا بجٹ پاکستان سے بہت زیادہ ہے، وہ اپنے قومی کھیلوں کے انعقاد پر کروڑوں روپے خرچ کررہا ہے جبکہ ایشین گیمز اور کامن ویلتھ گیمز کے انعقاد کے بعد اس کی نظریں اولمپکس پر ہیں۔ عارف حسن نے کہا کہ بڑے کھیلوں کی میزبانی کا مقصد ملک میں انفرا سٹرکچر تیار کرنا اور اپنے کھلاڑیوں کی ٹریننگ کا سامان پیدا کرنا ہوتا ہے جس سے ان کی کارکردگی بہتر ہوجاتی ہے۔ لیکن بقول ان کے ’پاکستان میں صورتحال بالکل مختلف ہے۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے پاس ایک پیسہ نہیں ہے۔ اس کوئی گرانٹ نہیں ملتی۔ کھیلوں کی قومی فیڈریشنز کو حکومت کی طرف سے پیسہ سپورٹس بورڈ کے توسط سے ملتا ہے۔‘ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا ہے کہ ملک میں ٹیلنٹ موجود ہے لیکن ’اس ٹیلنٹ کا کیا کریں جسے نکھارنے کے لئے اکیڈمیز نہ ہوں۔ میں نے اکیڈمیز کی تجویز پیش کی لیکن وزیراعظم صاحب نے یہ کہہ کر اسے مسترد کردیا کہ اکیڈمیز کی کوئی ضرورت نہیں ہے، آپ شارٹ ٹرم ٹیلنٹ ہنٹ کریں۔‘ لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عارف حسن کے خیال میں کھیلوں کی تعداد میں کمی سے معیار بلند نہیں ہوسکتا بلکہ پورے ملک میں فزیکل کلچر متعارف کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول اگر ہم صرف چار پانچ کھیلوں پر توجہ رکھیں گے تو ساؤتھ ایشین گیمز میں ہم میڈلز ٹیبلز پر افغانستان سے بھی نیچے ہوں گے۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا: ’تین سال کے دوران کھلاڑیوں کی ٹریننگ پرغیرمعمولی توجہ دی گئی ہے۔ اس دوران غیرملکی کوچز لائے گئے اور کھلاڑیوں کو غیرملکی دوروں پر بھیج کر مقابلے کی فضا مہیا کی گئی جس کا نتیجہ اسلام آباد اور کولمبو کے ساؤتھ ایشین گیمز کی عمدہ کارکردگی کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔‘ واضح رہے کہ 2004ء میں اسلام آباد میں ہونے والے ساؤتھ ایشین گیمز میں پاکستان نے اڑتیس طلائی تمغے حاصل کئے تھے جبکہ گزشتہ سال کولمبو میں پاکستانی کھلاڑیوں کے جیتے گئے طلائی تمغوں کی تعداد اکتالیس رہی تھی۔ ادھر دو ہزار چودہ کے ایشین گیمز کی میزبانی کا فیصلہ منگل کو کویت میں اولمپک کونسل آف ایشیاء کے اجلاس میں ہونے والا ہے۔ بھارت کا شہر نئی دہلی اور جنوبی کوریا کا شہر اینشاں ان کھیلوں کی میزبانی کے امیدوار ہیں۔ اولمپک کونسل آف ایشیاء نےدو ہزار دس کی ایشین گیمز کی میزبانی پہلے ہی چین کے شہرگونگزو کو دے رکھی ہے اور اس سے اگلے ایشیائی کھیلوں کے میزبان کا انتخاب کرنے کے لئے اولمپک کونسل آف ایشیا کے پنتالیس رکن ممالک حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ نئی دہلی اس سے قبل1951ء اور 1982ء کے ایشیائی کھیلوں کی میزبانی بھی کرچکا ہے جبکہ جنوبی کوریا کے شہر سول 1986ء اور بوسان 2002ء میں ایشین گیمز کا انعقاد کرچکے ہیں۔ | اسی بارے میں ایشین ہاکی فیڈریشن انتخابات06 January, 2007 | کھیل ایشین گیمز سے زیادہ توقعات نہیں25 November, 2006 | کھیل اولمپک مشعل بلند ترین چوٹی پر03 January, 2007 | کھیل ایشین گیمز: شہناز شیخ کوچ مقرر27 September, 2006 | کھیل ’بھارت 2014ایشین گیمز کا منتظر‘19 August, 2006 | کھیل ریاضی اولمپک کے مقابلے میں شرکت28 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||