ریاضی اولمپک کے مقابلے میں شرکت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعہ کے دن لاہور میں میتھمیٹکس انسٹی ٹیوٹ میں چاروں صوبوں سے آئے ہوئے پینتیس طالبعلموں نے ریاضی کا امتحان دیا جس کے بعد ان میں سے پانچ سب سے زیادہ نمبر لینے والے طالبعلم منتخب کیے جائیں گے جو جولائی میں تہران میں ہونے والی سترہویں بین الاقوامی سائنسی اولپمیاڈ برائے ریاضی میں ملک کی نمائندگی کریں گے۔ تین سال پہلے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے شعبہ کے طور قائم کیے گئے اسکول آف میتھیمیٹکس کے ڈائریکٹر جنرل چودھری ریاض کہتے ہیں کہ ان کا ادارہ ملک میں ریاضی کے مقابلوں کی روایات قائم کررہا ہے اور زیادہ سے زیادہ طالبعلموں کو اس مضمون کی طرف لے کر آ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ریاضی میں باصلاحیت افراد خاصی تعداد میں ہیں لیکن انہیں اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے مواقع اور ترغیبات موجود نہیں تھیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی مدد سے یہ اسکول آف میتھمیٹکس (ایس ایم ایس) بنایا گیا ہے جو صرف ریاضی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری جاری کرے گا۔ چودھری ریاض کا کہنا ہے کہ ملک میں ریاضی کی اعلیٰ تعلیم دینے کے اہل اساتدہ ہی موجود نہیں تھے اس لیے انہوں نے یورپ کے مختلف ملکوں سے بیس سے زیادہ ماہرین ریاضی کو یہاں مدعو کیا جو اس وقت یہاں پچاس سے زیادہ پی ایچ ڈی کے طالبعلموں کو تعلیم دے رہے ہیں۔ ان کا تعلق جرمنی، رومانیہ، فرانس، انگلستان اور انڈونیشیا جیسے ملکوں سے ہے۔ لاہور کے گورنمنٹ اسلامیہ ہائی اسکول خزانہ گیٹ سے میٹرک کرنے والے چودھری ریاض نے بخارسٹ یونیورسٹی سے ریاضی میں پی ایچ ڈی کی، پرنسٹن یونیورسٹی امریکہ سے پوسٹ ڈائریکٹوریٹ کیا اور میکسیکو میں ریاضی کی اعلی تعلیم کا ادارہ قائم کیا۔ تین سال پہلے انہیں سی ایٹل امریکہ کی سینٹرل واشنگٹن یونیورسٹی سے ریاضی کی اعلی تعلیم کا ادارہ قائم کرنے کے لیے پاکستان بلایا گیا۔ چودھری ریاض کا کہنا ہے کہ ان کے لیے میکسیکو میں ریاضی کی اعلیٰ تعلیم کے لیے دنیا بھر کے ماہرین کو جمع کرنا آسان تھا لیکن پاکستان میں ایسا کرنا خاصا مشکل تھا تاہم یہ غیرملکی ماہرین ریاضی اس جذبہ سے پاکستان آئے ہیں کہ وہ اس ملک کو ریاضی میں آگے بڑھنے میں مدد دیں۔ چودھری ریاض کا کہنا ہے کہ ان کا مشاہدہ ہے کہ پاکستان میں اسکولوں، کالجوں اور یونورسٹیوں میں ریاضی کی تعلیم میں دلچپسی کی کمی ہے اور طالبعلموں کو معلوم نہیں کہ ریاضی کتنا دلچسپ مضمون ہوسکتا ہے۔ چودھری ریاض کہتے ہیں کہ جو لوگ ریاضی میں ایم ایس سی کرکے ان کے ادارہ میں پی ایچ ڈی کرنے آتے ہیں ان کا معیار اچھا نہیں ہوتا اور انہیں چند ماہ ایم ایس سی کا کورس پڑھانا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارا موجودہ تعلیمی نظام طالبعلموں میں تخلیقی صلاحتیں اجاگر کرنے کے بجائے انہیں چیزیں زبانی یاد کرنے پر لگا دیتا ہے۔ چودھری ریاض کہتے ہیں کہ ملک میں طالبعلموں میں دلچسپی کو پیدا کرنے کے لیے پاکستان کے اسکولوں اور کالجوں کے طالبعلموں کو میتھمیٹکس وداؤٹ بارڈر نامی تنظیم کا رکن بنوایا جسے عرف عام میں کنگرو میتھیمیٹکس کہتے ہیں۔ یہ تنظیم دنیا بھر میں اپنے رکن ملکوں سے تیسری جماعت سے لے کر تیرھویں جماعت کے طالبعلموں کا ریاضی میں ایسا مقابلہ کراتی ہے جس میں ریاضی کو ایک کھیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جولائی سنہ دو ہزار پانچ میں پاکستان بھر سے بیس ہزار طالبعلموں نے کنگرو ریاضی کے مقابلہ میں شرکت کی جس میں شرکا اپنے اپنے اسکولوں میں ایس ایم ایس کے ممتحنوں کی نگرانی میں مقابلہ میں حصہ لیتے ہیں۔ اس سال اس بین الاقوامی مقابلہ میں ملک بھر سے ساٹھ ہزار طالبعلموں نے شرکت کی اور انیس انعامات جیتے۔ گزشتہ سال پہلی بار پاکستان کی جانب سے پہلی بار چھ طالبعلموں نے میکسیکو میں ہونے والی سولھویں المپیاڈ میں شرکت کی تھی جسے شرو ع ہوئے سینتالیس سال گزر چکے ہیں اور ستانوے ملک کی ٹیمیں اس میں ہر سال حصہ لیتی ہیں۔ ایس ایم ایس کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت سے پاکستانی طالبعلموں کو پتہ چلے گا کہ دنیا بھر میں ریاضی کا معیار کیا ہے اور کس سطح کی میتھیمیٹکس دنیا میں ہورہی ہے اور ہمارے یہاں اس کا معیار کیا ہے۔ | اسی بارے میں ٹینٹ کلاسوں میں امید کا سبق05 November, 2005 | پاکستان پاکستانی طلباء کا بین الاقوامی اعزاز05 April, 2006 | پاکستان ڈرامۂ بحالی وتعمیرِ نو 27 January, 2006 | پاکستان طالبہ سے جنسی زیادتی پرانکوائری21 February, 2004 | پاکستان ’غیر ملکی دسمبر تک چلے جائیں‘30 July, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||