پاکستانی طلباء کا بین الاقوامی اعزاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والے طلبہ کے ایک بین الاقوامی مقابلہ میں لاہور کی لمس یونیورسٹی کے آٹھ طلبا و طالبات کو غیرمعمولی (یا سرکردہ) وفد کے اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ یہ مقابلے چین کے دارلحکومت بیجنگ میں پانچ روز تک ستائیس سے اکتیس مارچ تک جاری رہے۔ ماڈل یونائٹڈ نیشنز نامی ان مقابلوں کی تاریخ میں پہلی بار جنوبی ایشیا کے کسی ملک کی یونیورسٹی کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے۔ اس بین الاقوامی مقابلے کا اہتمام اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کی سرپرستی میں قائم ورلڈ ماڈل یونائٹڈ نیشنز کانفرنس نے کیا تھا جس میں دنیا بھر سے چودہ سو سے زیادہ طلبا و طالبات شریک تھے۔ اقوام متحدہ کی طرز پر ہونے والے یہ پندرہویں بین الاقوامی مقابلے تھے جن میں برطانیہ سے اوکسفرڈ، کیمبرج، لندن اسکول آف اکنامکس، کنیڈا سے میک گل یونیورسٹی اور امریکہ سے ہارورڈ، ایم آئی ٹی اور برکلے سمیت دنیا کے ایک سو پچہتر کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طالبعلموں نے حصہ لیا۔ اس مباحثہ میں پاکستانی وفد لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمس) کے آٹھ طالبعلموں پر مشتمل تھا۔ ان طلبہ نے اقوام متحدہ کے آٹھ مختلف اداروں جیسے عالمی ادارہ صحت، یو این ڈی پی وغیرہ کے طور پر کام کیا اوراقوام متحدہ کی طرز پر قراردادیں تحریر کیں۔ اس مقابلہ میں ایک دلچسپ بات یہ تھی کہ پاکستان کے وفد کو بھارت کے نمائندہ وفد کے طور پر کام کرنے کے لیے کہا گیا جسے مندوبین نے خاصی دلچسپی سے دیکھا۔ لمس کے ہاشم زیدی، احسن خان شیروانی اور رابعہ انعام کو سفارتکاری، مقررانہ صلاحیتوں اور حالات حاظرہ پر مبنی معلومات کی بنیاد پر انفرادی انعامات سے بھی نوازا گیا۔ وفد کے دوسرے چار ارکان میں سید حسن اکبر، قاضی محمد صدیقی، سروش ہارون اور سید احمد زیدی شامل تھے۔ پاکستانی وفد کے ترجمان عمار ملک نے بتایا کہ ٹیموں کی مجموعی کارکردگی کی بنیاد پر جن تین تعلیمی اداروں کو سرکردہ وفد کا اعزاز دیا گیا ان میں لمس کے علاوہ امریکہ کے کالج آف ولیم اینڈ میری اور یو ایس ملٹری اکیڈمی ویسٹ پوائنٹ شامل تھے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||