BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 November, 2006, 11:31 GMT 16:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایشین گیمز سے زیادہ توقعات نہیں

ایشین گیمز
دوحا میں ہونے والی ایشین گیمز کےبائیس ایونٹس میں پاکستان شرکت کر رہا ہے
پندرہویں ایشین گیمز اب صرف چند دن دور ہیں۔ پاکستان یکم سے پندرہ دسمبر تک قطر کے شہر دوحا میں ہونے والے ایشیائی کھیلوں کے سب سے بڑے مقابلے کے بائیس ایونٹس میں شرکت کررہا ہے جن میں صرف چند ہی کھیل ایسے ہیں جن میں پاکستانی کھلاڑیوں سے اچھی کارکردگی کی توقع کی جارہی ہےمگرطلائی تمغوں کا حصول پھر بھی یقینی نہیں۔

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عارف حسن کا کہنا ہے کہ ایشین گیمز کا معیار انتہائی بلند ہے اور پاکستانی کھلاڑیوں سے ساؤتھ ایشین گیمز جیسی کارکردگی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ محدود وسائل میں رہتے ہوئے پاکستانی کھلاڑیوں کی تیاری پر توجہ دی گئی ہے اور انہیں امید ہے کہ کھلاڑی اطمینان بخش کارکردگی دکھائیں گے۔

لیفٹننٹ جنرل( ریٹائرڈ) عارف حسن کے مطابق جب تک پاکستان میں کھیلوں کے ڈھانچے کو منظم نہیں کیا جائے گا پچاس اور ساٹھ کے عشرے جیسے نتائج سامنے نہیں آسکیں گے۔

ایشین گیمز میں ہاکی پاکستان کی سب سے بڑی امید رہی ہے لیکن دوحا میں ہونے والے ہاکی مقابلوں میں پاکستان ایک نئی ہاکی ٹیم کے ساتھ شریک ہے اس کی وجہ پانچ تجربہ کار کھلاڑیوں کا قومی ٹیم کی بجائے بیرون ملک لیگ ہاکی کو ترجیح دینا تھا۔

دوحا میں پاکستانی ہاکی ٹیم کو جنوبی کوریا، بھارت، جاپان اور ملائیشیا کے سخت چیلنج کا سامنا ہے۔ کوچ شہناز شیخ کا کہنا ہےکہ تجربہ کار کھلاڑیوں کے نہ ہونے کے باوجود وہ اپنی ٹیم کو فائنل میں دیکھ رہے ہیں۔

دوحا میں پاکستان کی طلائی تمغہ جیتنے کی امیدوں کو اپنے تجربہ کار باکسر مہراللہ لاسی پر عائد کردہ چھ ماہ کی پابندی سے دھچکا پہنچا ہے۔ان کے ساتھی باکسر فیصل کریم بھی پابندی کی زد میں آئے ہیں جس کا سبب اگست میں کولمبو میں ہونے والے ساؤتھ ایشین گیمز میں ممنوعہ ادویات کا استعمال ہے۔
مہراللہ لاسی نے چارسال قبل بوسان میں منعقدہ ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔


دوحا میں ویٹ لفٹنگ اور سنوکر میں پاکستان کو طلائی تمغے مل سکتے ہیں۔ ویٹ لفٹنگ میں یہ امید شجاع الدین سے وابستہ ہے جنہوں نے اس سال میلبرن میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیتا ہے۔

سنوکر میں پاکستان نے انگلینڈ میں مقیم پروفیشنل کیوسٹ شوکت علی کی خدمات حاصل کی ہیں جنہوں نے آٹھ سال قبل بنکاک میں منعقدہ ایشین گیمز میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔

بنکاک میں پاکستان نے اسکواش میں بھی گولڈ میڈل زرک جہاں خان کے ذریعے حاصل کیا تھا لیکن بوسان میں ملائیشین چیلنج نے اسے چاندی کے تمغے میں تبدیل کردیا۔ دوحا میں بھی پاکستانی کھلاڑیوں سے کسی کارنامے کی توقع نہیں رکھی جارہی البتہ پاکستانی کھیلوں کے حکام کشتی رانی میں چونکادینے والے نتیجے کی توقع ضرور رکھے ہوئے ہیں۔ اس کھیل میں بھی پاکستان نے ماضی میں نمایاں کامیابیاں سمیٹی ہیں۔

ریسلنگ میں بھی شاندار ماضی گزارنے کے بعد پاکستان دو عشروں سے ایشین گیمز میں طلائی تمغہ حاصل نہیں کرسکا ہے۔ اسی طرح ایتھلیٹکس میں بھی پاکستانی ایتھلیٹس کی کامیابیاں قصۂ پارینہ بن چکی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد