BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 November, 2006, 05:22 GMT 10:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ملتان: پاکستان نے ٹیسٹ بچالیا

پہلی اننگز میں56 رنز کے بعد دوسری اننگز میں 191 بناکر محمد یوسف بجا طور پر مین آف دی میچ ایوارڈ کے حقدار ٹھہرے۔
محمد یوسف کی شاندار بیٹنگ سے حوصلہ پاتے ہوئے پاکستانی کرکٹ ٹیم ملتان ٹیسٹ بچانے میں کامیاب ہوگئی۔ آخری دن کے پہلے سیشن میں تین قیمتی وکٹیں حاصل کرنے کے بعد برائن لارا کے لئے وہ لمحات یقیناً تکلیف دہ تھے جب وہ پاکستانی اننگز کو جلد سمیٹنے میں ناکام رہے۔

پاکستان نے پانچویں دن کا کھیل ختم ہونے پر7 وکٹوں پر461 رنز بناکر227 رنز کی برتری حاصل کرلی تھی۔

32 سالہ محمد یوسف نے جو اس سال اپنی زندگی کی بہترین کرکٹ کھیل رہے ہیں مشکل حالات میں شاندار سنچری اسکور کرکے ممکنہ شکست کو باوقار ڈرا میں تبدیل کردیا۔

پہلی اننگز میں56 رنز کے بعد دوسری اننگز میں 191 بناکر محمد یوسف بجا طور پر مین آف دی میچ ایوارڈ کے حقدار ٹھہرے۔

72 ویں ٹیسٹ میچوں میں محمد یوسف کی یہ 21 ویں اور اس سال صرف دسویں ٹیسٹ میں7 ویں سنچری ہے جو ویوین رچرڈز اوراروندا ڈی سلوا کے ساتھ ایک کیلنڈر ائر میں سنچریوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
محمد یوسف کی اکیس میں سے تیسری سنچری ہے جو انہوں نے دوسری اننگز میں بنائی ہے۔

اس سال محمد یوسف کے رنز کی تعداد 1562 ہوچکی ہے جو1976 میں ویوین رچرڈز کے1710 رنز کے بعد دوسرا بڑا مجموعی اسکور ہے۔

ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں ڈرا ہونے والا یہ پہلا ٹیسٹ ہے۔ اس سےقبل کھیلے گئے چاروں ٹیسٹ فیصلہ کن ثابت ہوئے تھے جن میں سے تین پاکستان نے جیتے جبکہ ایک میں بھارتی ٹیم فاتح رہی تھی۔

پاکستان نے213 رنز2 کھلاڑی آؤٹ پر دوسری اننگز شروع کی تو مہمان ٹیم کو پہلی کامیابی کے لئے بارہویں اوور تک انتظار کرنا پڑا جب عمران فرحت بیک ورڈ پوائنٹ پر گیند کھیل کر رن کے لئے دوڑ پڑے۔ محمد یوسف بھی کریز سے کافی باہر آئے لیکن واپس لوٹ گئے اس صورتحال میں چندر پال کی تھرو پر عمران فرحت کے لئے واپس اپنی کریز میں واپس جانا ممکن نہ رہا اور وہ 76 اسکور پر رن آؤٹ ہوگئے۔

انضمام الحق جو صفر پر رن آؤٹ ہونے سے بچے تھے اپنی بیٹنگ کے دوران خاصے دباؤ میں دکھائی دیئے بالآخر دس کے انفرادی اسکور پر ٹیلر ان کی قیمتی وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

انضمام الحق انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں نصف سنچریوں کے بعد سے ابتک 8 اننگز میں نصف سنچری نہیں بناسکے ہیں۔

لنچ سے قبل شعیب ملک چار رنز بناکر ڈیرن پاول کی گیند پر بولڈ ہوئے تو برائن لارا سیریز برابر کرنے کے بارے میں خاصے پرامید ہوچکے تھے لیکن محمد یوسف خوب کھیلے ساتھ میں ان کی قسمت بھی خوب کھیلی۔ دو مرتبہ ایل بی ڈبلیو کی پرزور اپیلیں امپائرز مارک بینسن اور ڈیرل ہارپر نے مسترد کردیں اور 108 کے اسکور پر پاول کی گیند پر سلپ میں مورٹن نے ان کا کیچ ڈراپ کردیا۔
دو ٹیسٹ میچوں میں ویسٹ انڈین فیلڈرز محمد یوسف کے پانچ کیچز ڈراپ کرچکےہیں۔

آؤٹ آف فارم عبدالرزاق جنہوں نے اس ٹیسٹ سے قبل آخری 25 ٹیسٹ میچوں میں صرف 56 وکٹیں حاصل کرنے کے علاوہ صرف دو نصف سنچریاں بنائی تھیں بروقت فارم میں آگئے۔ انہوں نے80 رنز بنائے اور محمد یوسف کے ساتھ چھٹی وکٹ کی شراکت میں152 رنز کا اضافہ کیا۔

محمد یوسف کے ڈیو محمد کی گیند پر چندر پال کے ہاتھوں کیچ ہونے پر امپائرز نے میچ ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

ڈیو محمد تین وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے۔

پاکستانی ٹیم: انضمام الحق، محمد یوسف، عمران فرحت، محمد حفیظ، یونس خان، شعیب ملک، عبدالرزاق، کامران اکمل، شاہد نذیر، عمر گُل اور دانش کنیریا۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم برائن لارا، ڈیرن گنگا، کرس گیل، رناکو مارٹن، شِو نرائن چندرپال، ڈوائن براوو، دنیش رام دین، ڈیو محمد، کوری کالیمور، ڈیرن پاول اور جیروم ٹیلر۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد