طلباء کا نیا کرکٹ ریکارڈ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
محمد اظہرالدین اور ثانیہ مرزا جیسے اسٹار کھلاڑیوں کی سرزمین حیدرآباد میں کرکٹ کے دو نئے ہیروابھرے ہیں۔ آٹھویں جماعت کے طالب علم محمد شہباز تمبی اور انکے ہم جماعت بی منوج کمار نےحیدرآباد کرکٹ ایسوسی ایشن کے انڈر 13 سکول کرکٹ ٹورنامنٹ میں 721 رنز بناکر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے- دونوں نے صرف چالیس اورز کھیل کر یہ بڑا اسکور کھڑا کیا ہے۔ دونوں 12 سالہ لڑکوں نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے سچن تندولکر اور ونود کامبلی کی جانب سے 1988 ء میں ممبئی میں بنائے گئے 664 رن کی پارٹنر شپ کا ریکارڈ توڑ دیا ہے جس میں سچن کے 329 اور کامبلی کے 349 رن شامل تھے- سکندرآباد کے پریڈ گراونڈ پر کھیلے گئے میچ میں سینٹ پیٹرس ہائی اسکول کے محمد شہباز نے 116 گیندوں پر 324 رن ناٹ آوٹ بنائے جبکہ منوج نے 127 گیندوں پر 320 رن ناٹ آوٹ اسکور کئے ۔ باقی77 رنز ایکسٹرا کی شکل میں حاصل ہوئے اور اس طرح کل 40 اوورز میں انہوں نے 721 رنوں کا ڈھیر لگادیا- دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ہی کھلاڑیوں نے ایک بھی چھکا نہیں لگایا- شہباز نے 57 اور منوج نے 46 چوکے لگائے اور مخالف سینٹ فلپس اسکول کی ٹیم کو اپنے رنوں کے سمندر میں ڈبو دیا۔ شہباز اور منوج نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کامیابی سے بہت خوش ہیں۔ یہ پوچھنے پر کہ کھیلتے وقت وہ کیا محسوس کررہے تھے شہباز نے کہا ’ ہم صرف ایک بات کو ذہن میں رکھ کر میدان میں گئے تھے کہ ہمیں تمام 40 اوورز کھیلنا ہے، ایک بڑا اسکور کرنا ہے اور اسکول کے لئے نام کمانا ہے- ہمیں اپنے ریکارڈ کا پتہ اس وقت چلا جب ہم پویلین میں لوٹے،۔ منوج نے کہا کہ یہ بات بہت خوشی ہے کہ انہوں نے سچن تندولکر اور ونود کامبلی جیسے کھلاڑیوں کا ریکارڈ توڑا ہے- ’’ اب ہم بھی ان کی اونچائیوں تک پہنچنا چاہتے ہیں اور ہندوستان کے لئے کھیلنا چاہتے ہیں، میں اس کے لئے سخت محنت کروں گا ،، - منوج کے والد بی سمہا چلم ایک وکیل ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کے خواب کو حقیقت بنانے کے لئے ہر ممکن مدد کریں گے- شہباز کے والد امتیاز عبداللہ اور والدہ عرشیہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں- عرشیہ کہنا تھا کہ شہباز کی کامیابی میں خود اس کی دلچسپی اور روزانہ 6 ، 7 گھنٹے کی پریکٹیس کا ہاتھ ہے- اپنے دو طالب علموں کی غیر معمولی کاکردگی پر سینٹ پیٹرس اسکول نے دل کھول کر جشن منایا- ایک تقریب میں ان دونوں کھلاڑیوں کو اعزاز دیا گیا اور فی کس 20 ہزار روپئے نقد انعام سے نوازا گیا ہے- اسکول کے کرسپانڈنٹ ٹی وی ریڈی کا کہنا تھا کہ یہ اسکول اور اس کے ہر طالب علم کے لئے ایک ناقابل فراموش لمحہ ہے کیونکہ شہباز اور منوج کی کامیابی نے ہر لڑکے اور لڑکی میں ایک نیا جوش بھردیا ہے- اس کامیابی پر سب سے زیادہ خوش اسکول کے کرکٹ کوچ ہریش کمار تھے جنہوں نے ان بچوں کے لئے بڑے خواب دیکھنا شروع کیا تھا۔ ' اتنے بڑے ریکارڈ کے بعد میں چاہتا ہوں کہ یہ لڑکے اپنی سخت محنت جاری رکھیں اور بتدریج آگے بڑھیں۔ مجھے یقین ہے کہ انہیں ریاستی ٹیم اور رنجی ٹیم میں بھی لیا جائے گا اور مستقبل میں وہ ہندوستان کے لئے کھیلیں گے'- ایسا لگتا ہے کہ ان دو لڑکوں کی کامیابی نے ہزاروں نئے خوابوں کو جنم دیا ہے- اس کامیابی نے اسکول کے ہر لڑکے اور لڑکی کے حوصلے بلند کردئیے ہیں۔ | اسی بارے میں ’انڈیا ویسٹ انڈیز میں جیتےگا‘23 April, 2006 | کھیل ’کوئی روزی سے نہیں روک سکتا‘22 April, 2006 | کھیل تندولکر: ٹیسٹ سے پہلے ٹیسٹ17 May, 2006 | کھیل ویسٹ انڈیز نے انڈیا کو پھر ہرا دیا24 May, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||