ڈوپنگ اپیلیں، سماعت ملتوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے تیز رفتار بولروں شعیب اختر اور محمد آصف پر عائد پابندی کے خلاف اپیل کی سماعت کو سوموار تک کے لیئے موخر کر دیا گیا ہے۔ شعیب اختر کو پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کی طرف سے چند دستاویزات کا انتظار ہے جس کی وجہ سے اپیل کو سوموار تک لیئے موخر کر دیا گیا ہے۔ شعیب اختر پر ممنوعہ ادویات کے استعمال کی بنا پر دو سال کی پابندی عائد کر دی گئی تھی جبکہ محمد آصف کو اس وجہ سے ایک سال کے عرصہ کے لیئے کرکٹ کھیلنے سے روک دیا گیا ہے۔ دونوں کھلاڑیوں کا موقف ہے کہ انہوں نے دانستہ طور پر ممنوعہ ادوایات کا استعمال نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ممنوعہ دوا ننڈرولین اس اضافی غزا میں شامل ہوسکتی ہے جو وہ استعمال کر رہے تھے۔ دونوں بولروں کی اپیل کی سماعت ایک تین رکن کمیٹی کر رہی ہے جس میں سابق وزیر قانون فخرالدین جی ابراہیم، سابق ٹیسٹ کھلاڑی حسیب احسن اور ڈاکٹر دانش ظہیر شامل ہیں۔
اس کمیٹی کو لندن کے ایک قانون دان مارک گئے کی معاونت حاصل ہے جس نے اوول ٹیسٹ میں پیدا ہونے والے تنازع کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کی تنظیم کمیٹی کے سامنے کپتان انضام الحق کی پیروی کی تھی۔ کمیٹی کے رکن فخر الدین جی ابراہیم نے کہا کہ سماعت موخر کیئے جانے کے باوجود ان کو امید ہے کہ کمیٹی جلد سے جلد اپنا کام مکمل کرلے گی۔ درین اثنا کرکٹ کی بین الاقوامی کونسل نے کہا ہے کہ بھارت میں ہونے والی چیمپیئن ٹرافی کے دوران سارے ٹیسٹ منفی آئے تھے۔ ان ٹیسٹوں کے نمونے ملیشیا کی ایک لیباٹری کو تجزیئے کے لیئے بھیجے گئے تھے۔ آئی سی سی کے سربراہ میلکم سپیڈ نے اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیسٹ کا منفی آنا ایک خوش آئند حقیقت ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرکٹ کا کھیل ممنوعہ ادویات کی لعنت سے پاک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اس پہلو سے غافل ہو جائیں۔ | اسی بارے میں بورڈ اثرانداز نہیں ہوسکتا: فخرالدین15 November, 2006 | کھیل شعیب، آصف کی سماعت منگل کو12 November, 2006 | کھیل نیم حکیم خطرۂ ٹیم02 November, 2006 | کھیل شعیب اختر کا برائن لارا کو ڈنر14 November, 2006 | کھیل شعیب اختر نے اپیل دائر کر دی08 November, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||