BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 November, 2006, 08:28 GMT 13:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شعیب، آصف کی سماعت منگل کو

شعیب اختر
’میں کوئی ڈاکٹر نہیں جو ہر دوا کے بارے میں جانتا ہو‘
پی سی بی کی ایک کمیٹی منگل کو ڈوپنگ پابندی کے خلاف شعیب اختر اور محمد آصف کی اپیلوں کی سماعت کررہی ہے۔

پی سی بی کی اپیل کمیٹی کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ فخرالرین جی ابراہیم ہیں جوکہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں جبکہ دیگر ممبران میں سابق کرکٹر حسیب احسن اور ایک ڈاکٹر دانش ظہیر شامل ہیں۔ڈاکٹر دانش ظہیر ڈوپنگ معاملات میں ایک اتھارٹی سمجھے جاتے ہیں۔

دونوں کھلاڑی طبی معائنے کے بعد ممنوعہ دوا نیندرولون کے لیئے پازیٹو قرار پائے تھے۔

توقع ہے کہ شعیب اختر سماعت کے دوران اپنے دفاع کے لیئے ٹینس کے کھلاڑی گریگ روزسکی کے کیس کا حوالہ دیں گے جنہیں مارچ 2004 میں ایسے ہی الزامات سے بری کردیا گیا تھا۔

روزسکی نے اپنے دفاع کے لیئے چیک کھلاڑی بودو الرچ کے کیس کا سہارا لیا تھا جنہیں 2003 میں ایسے ہی الزامات سے بری کیا گیا تھا۔

درجنوں آپریشن، سینکڑوں دوائیں
 یہ منصفانہ سماعت نہیں ہے۔ کمیٹی کو میری طبی حالت بھی دیکھنی چاہیئے۔ میرے درجنوں آپریشن ہوچکے ہیں اور میں سینکڑوں دوائیں استعمال کرتا رہا ہوں۔
شعیب

الرچ اور ٹینس کے دیگر چھ کھلاڑیوں کے ممنوعہ ادویات کے استعمال کے کیسوں میں ٹینس کی گوررننگ باڈی نے تسلیم کیا تھا کہ ممکن ہے کہ ممنوعہ مواد استعمال کروانے میں ان کھلاڑیوں کے ٹرینرز کا ہاتھ ہو۔

شعیب نے روزنامہ ڈان کو بتایا تھا کہ جڑی بوٹیوں کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں تھی اور وہ ایسی ہی جڑی بوٹیاں استعمال کررہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ روزسکی کے نینرولون استعمال کرنے کا لیول ان سے کہیں زیادہ پایا گیا تھا۔

پی سی بی کا رویہ محمد آصف کے ساتھ قدرے نرم ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ آصف کو ممنوعہ ادویات کے بارے میں زیادہ علم نہیں تھا۔شعیب کہتے ہیں ’یہ منصفانہ سماعت نہیں ہے۔ کمیٹی کو میری طبی حالت بھی دیکھنی چاہیئے۔ میرے درجنوں آپریشن ہوچکے ہیں اور میں سینکڑوں دوائیں استعمال کرتا رہا ہوں‘۔

شعیب کا کہنا ہے ’میں کوئی ڈاکٹر نہیں جو ہر دوا کے بارے میں جانتا ہو‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد