BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شعیب پر دو آصف پر ایک سال

شعیب اختر اپنے آپ کو معصوم ثابت کرنے میں ناکام رہے: شاہد حامد
پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کے ڈوپنگ کمیشن نے تیز رفتار بالر شعیب اختر اور محمد آصف پر ممنوعہ ادویات استعمال کرنے کے الزامات پر بالترتیب دو سال اور ایک سال کی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

شیعب اختر اور محمد آصف کے خلاف یہ فیصلہ پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کی طرف سے قائم کردہ ڈوپنگ کمیشن کے چیئرمین شاہد حامد نے بدھ کو قذافی سٹیڈیم میں سنایا۔

انیس صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں کمیشن نے کہا کہ شعیب اختر سماعت کے دوران یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ وہ ممنوعات ادوایات استعمال نہیں کرتے رہے ہیں۔

شاہد حامد نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ شعیب اختر کو سنائی جانے والی سزا کم سے کم ہے اور بین الاقوامی کرکٹ کے قوانین کے تحت وہ شعیب کو اس سے کم سزا نہیں سنا سکتے۔

محمد آصف کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہیں شک کا فائدہ دیتے ہوئے ایک سال کی سزا سنائی گئی۔

شاہد حامد نے کہا کہ شعیب اختر ممنوعہ ادویات کے استعمال کے بارے میں بین الاقوامی کرکٹ قوانین سے پوری طرح آگاہ تھے اور سن دو ہزار چار میں کھلاڑیوں کو آگاہ کرنے کے لیئے کرائی جانے والی ورکشاپ میں شعیب اختر شریک تھے۔

شاہد حامد ڈوپنگ کمیشن کا فیصلہ سنا رہے ہیں

تاہم انہوں محمد آصف کے بارے میں کہا کہ وہ اس بارے میں پوری آگاہی حاصل نہیں تھی اور پی سی بی کی طرف سے انہیں فراہم کردہ قوائد و ضوابط کا کتابچہ بھی انگریزی زبان میں تھا۔ کمیشن نے اپنے فیصلہ میں یہ بات واضح کی ہے کہ کیونکہ محمد آصف انگریزی زبان سے واقفیت نہیں رکھتے اس لیئے انہیں شک کا فائدہ دیا جا سکتا ہے۔

شاہد حامد نے کہا کہ محمد آصف نے سماعت کے دوران اعتراف کیا کہ وہ ممنوعہ ادویات کے ذمرے میں آنےوالا ایک ’فوڈ سپلیمنٹ‘ استعمال کرتے تھے لیکن پی سی بی کے ماہر ڈیرل لفسن کے کہنے کے بعد انہوں نے اس کا استعمال بند کر دیا تھا۔

شاہد حامد نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پابندی کے دوران یہ کھلاڑی قومی اور بین الاقوامی سطح پر کس قسم کی کرکٹ میں شرکت نہیں کرسکتے، نہ ہی وہ کرکٹ بورڈ کے کسی عہد پر کام کرسکتے ہیں اور نہ ہی وہ کرکٹ بورڈ کی طرف سے کسی قسم کے فنڈ لینے کے مستحق رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد