BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 October, 2006, 15:11 GMT 20:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ٹیسٹ کی تصدیق بھی ہو چکی‘

نسیم اشرف
ہمارے کھلاڑیوں کو اس قسم کی ادویات کے استعمال سے قبل دس مرتبہ سوچنا چاہیئے:نسیم اشرف
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کا کہنا ہے کہ شعیب اختر اور محمد آصف کے ڈوپ ٹیسٹ کی تصدیق ہو چکی ہے اور یہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیئے ایک بہت بڑا دھچکا ہے۔
اسلام آباد میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے پی سی بی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ شعیب اور آصف جیسے ’میچ وننگ‘ باؤلروں کی عدم موجودگی سے چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی فتح کے امکانات پر یقیناً برا اثر پڑے گا۔

ڈاکٹر نسیم کا کہنا تھا کہ انہیں زبانی طور بتایا گیا ہے کہ دونوں کھلاڑیوں کے نمونوں کے ٹیسٹ کے مثبت ہونے کی ملیشیائی لیبارٹری نے دوبارہ تصدیق کر دی ہے۔

اس سے قبل پی سی بی کے ڈاریکٹر (آپریشنز) سلیم الطاف نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ دونوں کھلاڑیوں کا پہلا ڈوپ ٹیسٹ پازیٹو آنے کے بعد مزید تصدیق کے لیئے دوسرے ٹیسٹ کے لیئے کہہ دیا گیا ہے اور اس دوران شعیب اور آصف معطل رہیں گے۔

آئی سی سی کے ’اینٹی ڈوپنگ‘ قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر کسی بھی کھلاڑی کے کھیلنے پر دو سال کی پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ سلیم الطاف کا کہنا تھا ’اس حوالے سے ہمارے اپنے کوئی قوانین نہیں اور ہمیں آئی سی سی کے قواعد پر ہی عمل کرنا ہوگا‘۔

پی سی بی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ (ڈوپنگ) ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اور یہ ہماری ذمہ داری تھی کہ اس معاملے کو دنیا کے سامنے لائیں۔ ’ایسے معاملات میں غلط بیانی نہیں کی جا سکتی، اب ان کھلاڑیوں کو والدہ کی بیماری کا بہانہ بنا کر تو واپس نہیں بلوایا جا سکتا تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ

پی سی بی کو کریڈٹ دیا جائے
 ’پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس بات کا کریڈٹ دیا جانا چاہیئے کہ اس نے چیمپئنز ٹرافی میں ٹیم کی پرفارمنس پر پڑنے والے اثر سے قطع نظر پازیٹو ڈوپ ٹیسٹ کی رپورٹ ملتے ہی متعلقہ کھلاڑیوں کو واپس بلوا لیا‘
نسیم اشرف
پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس بات کا کریڈٹ دیا جانا چاہیئے کہ اس نے چیمپئنز ٹرافی میں ٹیم کی پرفارمنس پر پڑنے والے اثر سے قطع نظر پازیٹو ڈوپ ٹیسٹ کی رپورٹ ملتے ہی متعلقہ کھلاڑیوں کو واپس بلوا لیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیئے ایک کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے جس میں ایک ڈاکٹر، ایک وکیل اور ایک سابق ٹیسٹ کرکٹر شامل ہونگے۔

نسیم اشرف کا کہنا تھا کہ اس کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد ہی دونوں کھلاڑیوں پر پابندی لگانے کے بارے فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران شعیب اور آصف معطل رہیں گے لیکن بورڈ کے ساتھ ان کا سنٹرل کونٹریکٹ بحال رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں کھلاڑیوں نے جو دوا استعمال کی اس کا تعلق منشیات سے نہیں بلکہ قوت بڑھانے سے ہے۔

نسیم اشرف نے کہا کہ ’ ہمارے کھلاڑیوں کو اس قسم کی ادویات کے استعمال سے قبل دس مرتبہ سوچنا چاہیئے کیونکہ مثبت ڈوپ ٹیسٹ کے نتیجے میں آئی سی سی کی سزا دو سال کی پابندی ہے‘۔

شعیب اور آصف، معطل ہونے سے قبل

آئی سی سی کے قانون کے مطابق شعیب اور آصف کے متبادل کھلاڑیوں کو اس وقت ہی ٹیم میں شامل کیا جا سکتا ہے جب ان دونوں کھلاڑیوں پر پابندی لگا دی جائے۔ پابندی کے اعلان کے بعد ہی آئی سی سی کی ٹیکنیکل کمیٹی ٹورنامنٹ سے قبل پی سی بی کی جانب سے دی جانے والی تیس کھلاڑیوں کی فہرست سے متبادل کھلاڑیوں کی شمولیت کی اجازت دے سکتی ہے۔

پاکستانی ٹیم ٹورنامنٹ میں اپنا پہلا میچ منگل کو سری لنکا کے خلاف کھیلے گی اور انضمام الحق کی غیر موجودگی اور اب ان دونوں بالروں کی پاکستان واپسی کے بعد چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی کامیابی کے آثار معدوم ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد