’ٹیسٹ کی تصدیق بھی ہو چکی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کا کہنا ہے کہ شعیب اختر اور محمد آصف کے ڈوپ ٹیسٹ کی تصدیق ہو چکی ہے اور یہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیئے ایک بہت بڑا دھچکا ہے۔ اسلام آباد میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے پی سی بی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ شعیب اور آصف جیسے ’میچ وننگ‘ باؤلروں کی عدم موجودگی سے چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی فتح کے امکانات پر یقیناً برا اثر پڑے گا۔ ڈاکٹر نسیم کا کہنا تھا کہ انہیں زبانی طور بتایا گیا ہے کہ دونوں کھلاڑیوں کے نمونوں کے ٹیسٹ کے مثبت ہونے کی ملیشیائی لیبارٹری نے دوبارہ تصدیق کر دی ہے۔ اس سے قبل پی سی بی کے ڈاریکٹر (آپریشنز) سلیم الطاف نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ دونوں کھلاڑیوں کا پہلا ڈوپ ٹیسٹ پازیٹو آنے کے بعد مزید تصدیق کے لیئے دوسرے ٹیسٹ کے لیئے کہہ دیا گیا ہے اور اس دوران شعیب اور آصف معطل رہیں گے۔ آئی سی سی کے ’اینٹی ڈوپنگ‘ قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر کسی بھی کھلاڑی کے کھیلنے پر دو سال کی پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ سلیم الطاف کا کہنا تھا ’اس حوالے سے ہمارے اپنے کوئی قوانین نہیں اور ہمیں آئی سی سی کے قواعد پر ہی عمل کرنا ہوگا‘۔ پی سی بی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ (ڈوپنگ) ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اور یہ ہماری ذمہ داری تھی کہ اس معاملے کو دنیا کے سامنے لائیں۔ ’ایسے معاملات میں غلط بیانی نہیں کی جا سکتی، اب ان کھلاڑیوں کو والدہ کی بیماری کا بہانہ بنا کر تو واپس نہیں بلوایا جا سکتا تھا‘۔ انہوں نے کہا کہ
انہوں نے بتایا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیئے ایک کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے جس میں ایک ڈاکٹر، ایک وکیل اور ایک سابق ٹیسٹ کرکٹر شامل ہونگے۔ نسیم اشرف کا کہنا تھا کہ اس کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد ہی دونوں کھلاڑیوں پر پابندی لگانے کے بارے فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران شعیب اور آصف معطل رہیں گے لیکن بورڈ کے ساتھ ان کا سنٹرل کونٹریکٹ بحال رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں کھلاڑیوں نے جو دوا استعمال کی اس کا تعلق منشیات سے نہیں بلکہ قوت بڑھانے سے ہے۔ نسیم اشرف نے کہا کہ ’ ہمارے کھلاڑیوں کو اس قسم کی ادویات کے استعمال سے قبل دس مرتبہ سوچنا چاہیئے کیونکہ مثبت ڈوپ ٹیسٹ کے نتیجے میں آئی سی سی کی سزا دو سال کی پابندی ہے‘۔
آئی سی سی کے قانون کے مطابق شعیب اور آصف کے متبادل کھلاڑیوں کو اس وقت ہی ٹیم میں شامل کیا جا سکتا ہے جب ان دونوں کھلاڑیوں پر پابندی لگا دی جائے۔ پابندی کے اعلان کے بعد ہی آئی سی سی کی ٹیکنیکل کمیٹی ٹورنامنٹ سے قبل پی سی بی کی جانب سے دی جانے والی تیس کھلاڑیوں کی فہرست سے متبادل کھلاڑیوں کی شمولیت کی اجازت دے سکتی ہے۔ پاکستانی ٹیم ٹورنامنٹ میں اپنا پہلا میچ منگل کو سری لنکا کے خلاف کھیلے گی اور انضمام الحق کی غیر موجودگی اور اب ان دونوں بالروں کی پاکستان واپسی کے بعد چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی کامیابی کے آثار معدوم ہو گئے ہیں۔ | اسی بارے میں میں نے کچھ غلط نہیں کیا: شعیب16 October, 2006 | کھیل پٹھے بڑھانے کی دوا کا استعمال16 October, 2006 | کھیل شدیدمایوسی ہوئی: وولمر،یونس16 October, 2006 | کھیل مہراللہ، فیصل ڈوپ ٹیسٹ میں ناکام 30 September, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||