شعیب، آصف کا بی ٹیسٹ سے انکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے دو فاسٹ بالروں شعیب اختر اور محمد آصف نے بی ٹیسٹ کروانے سے انکار کردیا ہے اور دونوں بالروں پر لگے ڈوپنگ کے الزامات کی تحقیق کرنے والی کمیٹی کے سربراہ شاہد حامد نے کہا ہے کہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اے ٹیسٹ کی رپورٹ کو قبول کر لیا ہے۔ سابق گورنر پنجاب بیرسٹر شاہد حامد کی سربراہی میں دونوں فاسٹ بالروں پر ڈوپنگ کے الزامات کی تحقیق کرنے والی کمیٹی کا جمعہ کو نو گھنٹے سے زیادہ دیر تک اجلاس ہوا جِس میں دونوں کھلاڑیوں کو دو دو بار طلب کیا گیا۔ محمد آصف نے بغیر کسی معاون کے اپنا بیان قلم بند کروایا جبکہ شعیب اختر ڈاکٹر نعمان نیاز کو بطور وکیل اپنے ہمراہ لائے تھے۔ اجلاس کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ کے آفیشل ڈاکٹر سہیل سلیم نے بھی اپنا بیان قلم بند کروایا۔ کارروائی کے بعد کمیٹی کے سربراہ بیرسٹر شاہد حامد نے صحافیوں کو بتایا کہ پی سی بی کے سابق سربراہ کے حکم پر ورلڈ ڈوپنگ ایجینسی کے طریقۂ کار کے مطابق پاکستان کے انیس کھلاڑیوں کے پیشاب کے نمونے لینے کا عمل 25 ستمبر سے شروع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ محمد آصف کو 25 ستمبر اور شعیب اختر کو 2 اکتوبر کو طلب کیا گیا۔ انیس کھلاڑیوں کے نمونے ملائشیا کی لیبارٹری میں بھجوائے گئے۔ بیرسٹر شاہد حامد کے مطابق دونوں کھلاڑیوں کو نمونے لینے کے طریقۂ کار پر کوئی اعتراض نہیں اور دونوں نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے نمونے ورلڈ ڈوپنگ ایجینسی کے قائم کردہ معیار کے مطابق لیے گئے۔ بیرسٹر شاہد حامد نے مزید بتایا کہ ملائشیا سے آنے والی پہلی رپورٹ کے مطابق 19 میں سے دو نمونے مشکوک ہیں اور دوسری رپورٹ میں بتایا گیا کہ محمد آصف اور شعیب اختر کے ڈوپ ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت ہے۔ طریقہء کار کے مطابق جب کھلاڑیوں کے نمونوں کو اے اور بی دو حصوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے اور اگر کھلاڑی کو اے ٹیسٹ کے نتائج پر اعتراض ہو تو بی ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ بیرسٹر شاہد حامد نے کہا کہ انہوں نے دونوں کھلاڑیوں کو ہی پیشکش کی کہ اگر وہ چاہیں تو ان کا بی ٹیسٹ کروا لیا جائے لیکن دونوں کھلاڑیوں نے ان کی پیشکش مسترد کر دی۔ اجلاس ہفتے کے دن بھی جاری رہے گا۔ | اسی بارے میں ڈوپنگ کمیٹی کی کارروائی شروع 21 October, 2006 | کھیل ڈوپنگ کمیٹی کی تشکیل مکمل 20 October, 2006 | کھیل شعیب، آصف کا بی ٹیسٹ ہونا باقی ہے‘17 October, 2006 | کھیل ڈوپنگ: نیندرولون ہے کیا؟17 October, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||