BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 October, 2006, 11:03 GMT 16:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شعیب، آصف کا بی ٹیسٹ ہونا باقی ہے‘

 شعیب اختر
ابہام نسیم اشرف کے بیان سے پھیلا تھا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کےحکام نےواضح کیا ہے کہ فاسٹ بولر شعیب اختر اور محمد آصف کے پیشاب کا بی ٹیسٹ ملائیشیا کی لیباٹری میں سر بمہر ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے صدر ڈاکٹر نسیم اشرف کے پرسنل سٹاف آفسر عامر بلال نے پی سی بی کے صدر کی ایما پر بی بی سی کو بتایا کہ محمد آصف اور شعیب اختر کے پیشاب کے بی ٹیسٹ ابھی نہیں ہوا ہے اورنمونے ملائیشیا کی لیباٹری میں سر بمہر ہیں۔


دونوں سیمپل ، اے اور بی ، ایک ہی وقت میں لیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا دوسرا ٹیسٹ اسی وقت کیا جائے جب اس معاملے کا جائزہ لینے والی کمیٹی کا اجلاس ہو گا۔ انہوں نے کہا ڈوپنگ کے تنازعے کا جائزہ لینے کے لیئے کمیٹی اگلے چوبیس گھنٹے میں تشکیل دے دی جائے گی۔

انہوں نے کہا یہ کمیٹی تمام معاملات دیکھے گے اور دوسرا ٹسیٹ کرانے کا فیصلہ بھی کمیٹی ہی کرے گی۔

پی سی بی کے صدر نے بی بی سی کو یہ اطلاع اپنے سٹاف آفیسر کے ذریعے دی کیونکہ وہ خود وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں۔

شعیب اختر اور آصف کی بی رپورٹ کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں ابہام پایا جاتا ہے کہ آیا جس رپورٹ کی تصدیق کا اعلان پی سی بی کے صدر نے سوموار کے روز کیا تھا کیا وہ در اصل اے رپورٹ ہی کی دوبارہ تصدیق تھی یا بی سپیمل کا ٹیسٹ ہو چکا ہے۔

کرکٹ بورڈ کے صدر نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ شعیب اختر اور محمد آصف کے ٹیسٹ مثبت پائے گئے اور جب لیباٹری کو دوبارہ ٹیسٹ کرنے کا کہا گیا تو انہوں نے پھر اس کی تصدیق کر دی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران نسیم اشرف نے کہا تھا کہ انہیں پندرہ منٹ پہلے زبانی بتایا گیا ہے کہ دوسرے ٹیسٹ کی رپورٹ بھی پازیٹو ہے۔ جس کی وجہ سے ذرائع ابلاغ میں ابہام پیدا ہوا۔

نسیم اشرف کے سٹاف افسر نے واضح کیا ہے کہ بی سیمپل کا ٹیسٹ ہونا باقی ہے۔

بی سیمپل کی پازیٹو رپورٹ آنے کی صورت میں کھلاڑی پر کم از کم ایک جبکہ زیادہ سے زیادہ دو سال کی پابندی لگ سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بی سیمپل کو ٹیسٹ کرنے کی ضرورت تب پیش آتی ہے جب کھلاڑی چیلنج کرتا ہے کہ اس نے کوئی غلط دوا نہیں لی ا ور ٹیسٹ غلط ہے۔

اسی بارے میں
تاریک راہوں کے مسافر
17 October, 2006 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد