شعیب اختر: تنازعوں تا ڈوپنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر شعیب اختر کا کیرئر خاصا ہنگامہ خیز رہا ہے اور شاید ہی کوئی دور ہو گا جب وہ کھیلتے یا نہ کھیلتے ہوئے شہ سرخیوں میں نہ رہے ہوں۔ 1999 کے ورلڈ کپ میں اپنی طوفانی رفتار سے حریف بیٹسمینوں کے اوسان خطا کرنے کے بعد جب شعیب اختر نے آسٹریلیا میں قدم رکھا تو پہلا تنازعہ مشکوک بولنگ ایکشن کی شکل میں ان کا منتظر تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شعیب اختر کے بولنگ ایکشن پر اعتراض کرنے والے آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر تھے۔ بائیو میکینک ماہرین نے ان کے بازوؤں کی غیرمعمولی لچک اور ساخت کے سبب ان کے بولنگ ایکشن کو موزوں قرار دے دیا لیکن اس کے بعد بھی وہ اپنے منفرد بولنگ ایکشن کے دوسروں کے لئے قابل قبول نہ ہونے کی زد میں آئے اور پاکستان کرکٹ بورڈ ان کا مقدمہ لڑتا رہا۔ شعیب اختر کو مشکوک بولنگ ایکشن کے الزام سے چھٹکارہ ملا تو فٹنس مسائل نے انہیں گھیر لیا اور تواتر کے ساتھ ایسی سیریز بھی گزریں جن میں شعیب اختر مکمل طور پر نہ کھیل سکے۔ ورلڈ کپ2003 سے قبل زمبابوے کے خلاف ہرارے میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں تماشائیوں کی طرف بوتل پھینکنے پر میچ ریفری نے شعیب اختر پر میچ فیس کا پچاس فیصد جرمانہ اور ایک ون ڈے میچ کی پابندی عائد کردی۔
2003 کے دوران سری لنکا میں کھیلی گئی سہ فریقی ون ڈے سیریز میں ان پر بال ٹمپرنگ کا الزام ثابت ہونے پر میچ فیس کا75 فیصد جرمانہ اور دو ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی پابندی کی سزا دی گئی۔ اسی سال جنوبی افریقہ کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں پال ایڈمز سے نامناسب برتاؤ پر شعیب اختر پر ایک ٹیسٹ اور دو ون ڈے کی پابندی عائد کی گئی۔ 2004میں بھارت کے خلاف راولپنڈی ٹیسٹ کے اختتام پر شعیب اختر کو اس الزام کی صفائی پیش کرنی پڑی کہ انہوں نے خود کو ان فٹ ظاہر کرکے بولنگ نہیں کی لیکن بیٹنگ کی۔ اس الزام پر انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیکل کمیشن کے سامنے پیش ہونا پڑا۔ پاکستان کی کئی حالیہ سیریز میں شعیب اختر ٹیم میں ان آؤٹ ہوتے رہے ہیں۔ آسٹریلیا کے دورے سے ان فٹ ہوکر واپس آنے کے بعد وہ بھارت کے دورے پر نہ جاسکے۔ انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز میں پاکستان کی جیت میں سترہ وکٹوں کی صورت میں کلیدی کردار ادا کرنے کے بعد وہ سری لنکا کے دورے کے لیے ان فٹ قرار پائے گئے۔ انگلینڈ کے حالیہ دورے میں وہ ٹیسٹ سیریز سے باہر رہے لیکن ون ڈے سیریز میں ان کی واپسی ہوئی۔ وہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کو اپنی شاندار کارکردگی سے یادگار بنانا چاہتے تھے لیکن کسی بلے باز کو شکار کرنے سے پہلے ہی خود شکار ہوگئے۔ | اسی بارے میں میں نے کچھ غلط نہیں کیا: شعیب16 October, 2006 | کھیل پٹھے بڑھانے کی دوا کا استعمال16 October, 2006 | کھیل ’لوگ میری کپتانی پسند کرتے ہیں‘09 October, 2006 | کھیل انتظامیہ انضمام سے خوش نہیں: ظہیر09 October, 2006 | کھیل ’کرکٹ میں ایڈہاک ازم ختم ہوناچاہیے‘08 October, 2006 | کھیل ’پاکستانی ٹیم میں اختلافات نہیں‘06 October, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||