’کرکٹ میں ایڈہاک ازم ختم ہوناچاہیے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عمران خان اور جاوید میانداد نے کرکٹ بورڈ کےمعاملات کو سلجھانےکے لیے ایڈہاک ازم کی پالیسی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ کا انتخاب ملک کا صدر اپنی صوابدید میں کرتا ہے اور وہ صدر کے علاوہ کسی کو جوبداہ نہیں ہے۔ عمران خان نے کرکٹ بورڈ میں حالیہ تبدیلوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ کرکٹ بورڈ کے معاملات کو بھی جمہوری انداز میں چلایا جائے۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم دورہ انگلینڈ سے پریشانیوں میں لاحق ہے۔ کپتان انضمام الحق پر کھیل کو بدنام کرنے کے الزام میں چار میچوں کی پابندی کے بعد چیمپئنز نائب کپتان یونس خان سے کپتانی سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ ’ڈمی کپتان‘ نہیں بننا چاہتے۔ کرکٹ بورڈ نے چیمپئنز ٹرافی کے لیئے محمد یوسف کو کپتان بنائے لیکن کچھ ہی گھنٹے بعد کرکٹ بورڈ کے صدر شہریار کے استعفیٰ کے بعد محمد یوسف سے کپتانی چھن گئی اور یونس خان کو دوبارہ کپتان بنا دیا گیا۔ عمران خان نے کہا کہ حالیہ واقعات سے ثابت ہو گیا ہے کہ کرکٹ بورڈ کے معاملات کو صحیح طرح چلانے کے لیئے ایڈہاک ازم کی پالیسی کو ترک کرنا پڑے گا۔ عمران خان نے کہا کرکٹ بورڈ کا صدر کا انتخاب نمائندہ ایسوسی ایشنوں کے ذریعے کیا جانا چاہیے جیسا کہ ساری دنیا میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا صدر کی جانب سے چنے جانے والے صدر کی پالیسی کئی دفعہ ناکام ہو چکی ہے کیونکہ اس کے تحت بورڈ کا صدر کسی کو بھی جوابدہ نہیں ہوتا۔ پاکستان کے سابق کپتان اور کوچ جاوید میاندار نے کہا کہ حالیہ دنوں میں کرکٹ بورڈ میں ہونے والے تبدیلیاں ان کی سمجھ سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ نے پہلے کھلاڑیوں کو ڈسلپن کی خلاف ورزیاں کرنے کی ترغیب دی اور اب یہ صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ کھلاڑی کرکٹ بورڈ کے عہدیداروں کی بات سننے کے لیئے کے بھی تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کھلاڑی کو خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ جاوید میانداد نے کہا کہ شین وارن جیسے کھلاڑی کو بھی نظم و ضبط کی خلاف کرنے پر سزا مل جاتی ہے جس کی وجہ آسٹریلوی ٹیم میں ڈسلپن موجود ہے اور وہ دنیا کی بہترین ٹیم تصور کی جاتی ہے۔ جاوید میانداد نے پاکستان کے برطانوی کوچ باب وولمر پر بھی انگلی اٹھاتے ہوئے کہا کہ اوول ٹیسٹ میں جب پاکستان کی ٹیم مشکل سے دوچار تھی تو وہ مستفعیٰ ہونے کی سوچ رہے تھے۔ | اسی بارے میں ڈمی کپتان نہیں بنناچاہتا: یونس05 October, 2006 | کھیل یونس خان دوبارہ کپتان بنادیئے گئے07 October, 2006 | کھیل سفارت کاری سے کرکٹ کے میدان تک06 October, 2006 | کھیل شہریار خان استعفٰی: فیصلہ کس کا تھا؟07 October, 2006 | کھیل ’یونس خان مستقبل کے کپتان ہیں‘07 October, 2006 | کھیل یونس کےا نکار سے یوسف کی تقرری تک05 October, 2006 | کھیل انضمام کا متبادل فیصل اقبال03 October, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||