BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 October, 2006, 06:30 GMT 11:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈمی کپتان نہیں بنناچاہتا: یونس

یونس انضمام کی جگہ دو ٹیسٹ اور ون ڈے میچوں میں قیادت کے فرائض انجام دے چکے ہیں
پاکستان کرکٹ بورڈ اور کپتان یونس خان کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔ یونس خان نے جمعرات کی صبح قومی تربیتی کیمپ کے موقع پر باب وولمر کے ساتھ پریس کانفرنس میں یہ کہہ کر سب کو چونکا دیا تھا کہ وہ کپتانی چھوڑ رہے ہیں۔ کوچ باب وولمر نے یونس خان کے فیصلے کو مایوس کن قرار دیا ہے۔

یونس خان نے جنہیں انضمام الحق کی جگہ چیمپئنز ٹرافی کے لیئے کپتان مقرر کیا گیا تھا کہا کہ ’میں نے کرکٹ بورڈ کو بتا دیا ہے کہ میں کپتانی سے انکار کررہا ہوں اور میں ڈمی کپتان نہیں بننا چاہتا ہوں چاہے ایک میچ کے لیئے ہو، دو یا چھ میچوں کے لیئے‘۔یونس خان یہ کہہ کر کرکٹ اکیڈمی چلے گئے۔

اس کے بعد قذافی اسٹیڈیم میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے باب وولمر نے کہا کہ یہ فیصلہ ان کے لئے انتہائی مایوس کن ہے۔ ان کے مطابق یونس خان نے انہیں کپتانی چھوڑنے کی وجہ ذاتی بتائی ہے۔ باب وولمر نے کہا کہ ان کا کام ٹیم کی تیاری ہے اور اس وقت ٹیم کے سامنے چیمپئنز ٹرافی اور ورلڈ کپ ہے جو متاثر نہیں ہوگی اور وہ اپنا کام کرتے رہیں گے۔ باب وولمر کا کہنا ہے کہ صورتحال کے بارے میں باضابطہ بیان کرکٹ بورڈ جاری کرے گا۔

یونس خان کے جانے کے کچھ دیر بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر سلیم الطاف اور ٹیم کے منیجر طلعت علی ان سے مذاکرات کے لیئے اکیڈمی میں گئے لیکن یہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یونس خان کے کپتانی چھوڑنے کے اچانک فیصلے کے پیچھے دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ انضمام الحق کی جگہ متبادل کھلاڑی کے انتخاب کے معاملے میں انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

 یہ بات یونس خان کو بری لگی ہو اور انہوں نے محسوس کیا ہو کہ ان کی کپتانی برائے نام ہے لہذا انہوں نے کپتانی نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا
مبصرین

ذرائع کے مطابق سلیکٹرز نے چند نام یونس خان کے سامنے رکھ دیے تھے جس پر یونس خان نے ان پر واضح کردیا تھا کہ اگر کسی کھلاڑی کو آپ کو منتخب کرنا ہے تو آپ ہی کریں۔

دوسرا اہم سبب منیجر طلعت علی کا تازہ ترین بیان بھی ہوسکتا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر پاکستانی ٹیم چیمپئنز ٹرافی کے فائنل تک رسائی حاصل کرتی ہے تو اس بات کا امکان ہے کہ کسی کھلاڑی کے ان فٹ ہونے کی صورت میں انضمام الحق کی ٹیم میں واپسی ہوجائے جو اس وقت چار میچوں کی پابندی کی زد میں ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بات یونس خان کو بری لگی ہو اور انہوں نے محسوس کیا ہو کہ ان کی کپتانی برائے نام ہے لہذا انہوں نے کپتانی نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

یونس خان ماضی میں انضمام الحق کی جگہ دو ٹیسٹ اور ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں قیادت کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔

قیادت چھوڑنے کا اعلان کرنے کے بعد سے یونس خان میڈیا کے رابطے میں نہیں آرہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد