کرکٹ ماہرین نے پانسہ پلٹ دیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انضمام الحق کے خلاف گیند کو خراب کرنے کے الزام کی سماعت میں کرکٹ کے ماہرین کی گواہی نے فیصلہ پاکستان کے حق میں ہونے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انگلینڈ کے سابق بیٹسمین جیف بائیکاٹ،اور ٹی وی ماہر سائمن ہیوز کی گواہی کے بعد ہی آئی سی سی کے ریفری رانجن مدوگلے کے لیئے ممکن ہوا کہ وہ پاکستان کے کپتان کو بال ٹیمپرنگ کے الزام سے بری کر دیں۔ جیف بائیکاٹ نےاپنی شہادت میں ڈیرل ہئیر کے کی طرف سے پاکستان پر بال ٹمپرنگ کا الزام کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا گیند کو خراب نہیں کیا گیا تھا۔ متنازعہ گیند کو فضا میں بلند کرتے ہوئے جیف بائیکاٹ نے کہا کہ ’یہ نہ صرف اچھی گیند ہے بلکہ کھیلنے کے قابل گیند ہے‘۔ جیف بائیکاٹ نے کہا کہ دھوکہ دہی کے الزام کو برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر مجھے یا میرے دوستوں میں سے کسی پر کوئی دھوکہ دہی کا الزام لگایا ہوتا تو الزام لگانے والے کو مکہ مار کی چت کر دیا ہوتا۔ سائمن ہوز نے اپنی گواہی کے دروان کہا کہ شواہد سے ایسا لگتا ہے کہ ڈیرل ہئیر نے اندازوں کی بنیاد پر پاکستان پر بال ٹیمپرنگ کا الزام عائد کر دیا جس کی وجہ پاکستان کو اس ٹیسٹ میں شکست خوردہ قرار دے دیا گیا۔ سائمن ہوز نے کہا کہ ڈیرل ہیئر نے انتہائی ناکافی شہادت کی بنیاد پر پاکستان ٹیم پر الزام عائد کرتے ہوئے گیند تبدیل کر دی۔ سائمن ہیوز کے مطابق گیند پر لگے نشان ایسے نہیں تھے جن کی بنیاد پر کسی ٹیم کو بال ٹیمپرنگ کا الزام لگایا جا سکتا تھا۔ سائمن ہیوز نے کہا کہ جب انہوں نے گیند کا معائنہ کیا تووہ بلکل ایسی ہی لگی جیسی اتنے اووروں کے بعد گیند ہوتی ہے۔ | اسی بارے میں انضمام، ٹیمپرنگ کے الزام سے بری28 September, 2006 | کھیل یہ اخلاقی جیت ہے: سابق کرکٹرز28 September, 2006 | کھیل ہیئر چیمپیئن ٹرافی سے باہر28 September, 2006 | کھیل پاکستان کی فتح ہوئی: انضمام28 September, 2006 | کھیل انضمام کا بیان شروع26 September, 2006 | کھیل گنگولی امپائرز کے سب سے ناپسندیدہ27 September, 2006 | کھیل ڈیرل ہیئر قوانین کے مطابق تھے: محبوب25 September, 2006 | کھیل آئی سی سی: نسلی تعصب پر ضابطہ24 September, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||