انضمام، ٹیمپرنگ کے الزام سے بری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے کرکٹ کپتان انضمام الحق کو بال ٹیمپرنگ کے الزام میں بری کر دیا گیا ہے جبکہ کھیل کو بدنام کرنے کے الزام میں انہیں قصور وار پاتے ہوئے چار ایک روزہ میچوں کی پابندی کی سزا دی گئی ہے۔ دوسری طرف سکیورٹی اور سلامتی اقدامات کے پیشِ نظر امپائیر ڈیرل ہیئر آنے والی چیمپئنز ٹرفی امپائروں کے پینل میں نہیں رکھے گئے۔ فیصلے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈیرل ہیئر نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کبھی استعفیٰ دینے کے بارے میں نہیں سوچا۔ انضمام الحق اس فیصلے کے خلاف چوبیس گھنٹے کے اندر اپیل کرنے کا حق بھی رکھتے ہیں۔ تاہم انہوں نے ایک نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ انتہائی کم پابندی ہے اور میں اس فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کروں گا‘۔
آئی سی سی کے چیف ریفری رانجن مدوگالے نے کہا کہ انہوں نے اور آئی سی سی کے دیگر ماہرین نے یہ فیصلہ بال ٹیمپرنگ کے سلسلے میں پیش کیئے گئے تمام شواہد کا تقصیلی جائزہ لینے کے بعد کیا ہے۔
’ بال ٹیمپرنگ کے الزام کی شدت کو سامنے رکھتے ہوئے، جو کہ دراصل دھوکہ دہی کے الزام کے مترادف ہے، اور بال ٹیمپرنگ کے سلسلہ میں پیش کیئے گئے ثبوتوں کو دیکھتے ہوئے میں اس بات سے متفق نہیں ہوں کہ فیلڈنگ کرنے والی ٹیم (یعنی پاکستانی ٹیم) نے گیند کی حالت تبدیل کی تھی۔‘ مدو گالے نے مزید کہا کہ میرے خیال میں مذکورہ گیند اتنی ہی خراب ہوئی تھی جتنی کہ عمومی کھیل میں چھپن اوور کے بعد ہو جاتی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے کہا ہے کہ ’میں آئی سی سی کے فیصلے سے خوش ہوں اور تمام عمل بہت منصفانے طریقے سے مکمل ہوا ہے‘۔ اب تک کی اطلاعات میں یہ واضح نہیں ہے کہ انضباطی کارروائی کے فیصلے میں ایمپائر ڈیرل ہیئر کے بارے میں کچھ کہا گیا ہے یا نہیں۔ | اسی بارے میں انضمام کا بیان شروع26 September, 2006 | کھیل گنگولی امپائرز کے سب سے ناپسندیدہ27 September, 2006 | کھیل ڈیرل ہیئر قوانین کے مطابق تھے: محبوب25 September, 2006 | کھیل آئی سی سی: نسلی تعصب پر ضابطہ24 September, 2006 | کھیل ’آئی سی سی نہیں عدالت جانا چاہیے‘22 September, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||