BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 September, 2006, 12:00 GMT 17:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انضمام، ٹیمپرنگ کے الزام سے بری
انضمام الحق
انضمام الحق اس فیصلے کے خلاف چوبیس گھنٹے کے اندر اپیل کرنے کا حق بھی رکھتے ہیں
پاکستان کے کرکٹ کپتان انضمام الحق کو بال ٹیمپرنگ کے الزام میں بری کر دیا گیا ہے جبکہ کھیل کو بدنام کرنے کے الزام میں انہیں قصور وار پاتے ہوئے چار ایک روزہ میچوں کی پابندی کی سزا دی گئی ہے۔

دوسری طرف سکیورٹی اور سلامتی اقدامات کے پیشِ نظر امپائیر ڈیرل ہیئر آنے والی چیمپئنز ٹرفی امپائروں کے پینل میں نہیں رکھے گئے۔


فیصلے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈیرل ہیئر نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کبھی استعفیٰ دینے کے بارے میں نہیں سوچا۔

انضمام الحق اس فیصلے کے خلاف چوبیس گھنٹے کے اندر اپیل کرنے کا حق بھی رکھتے ہیں۔ تاہم انہوں نے ایک نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ انتہائی کم پابندی ہے اور میں اس فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کروں گا‘۔
انضمام الحق نے ایک نجی چینل سے بات کرتے ہوئے فیصلے کی تعریف کی اور کہا کہ وہ بہت خوش ہیں کہ انہیں الزام سے بری کر دیا گیا ہے۔

اپیل نہیں کروں گا
News image
 یہ انتہائی کم پابندی ہے اور میں اس فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کروں گا
انضمام الحق
انضمام نے کہا کہ انہوں نے بڑی مشکل سے ٹیم بنائی ہے اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان پر اس طرح کا الزام لگایا جائے۔ انضمام نےکہا کہ میرا اقدام کرکٹ کے شائقین اور کھلاڑیوں کے لیئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم تھا کہ کسی نے بال ٹیمپرنگ نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم نے ان کے فیصلے کی حمایت کی تھی۔

آئی سی سی کے چیف ریفری رانجن مدوگالے نے کہا کہ انہوں نے اور آئی سی سی کے دیگر ماہرین نے یہ فیصلہ بال ٹیمپرنگ کے سلسلے میں پیش کیئے گئے تمام شواہد کا تقصیلی جائزہ لینے کے بعد کیا ہے۔

پاکستان فیصلے سے خوش
 میں آئی سی سی کے فیصلے سے خوش ہوں اور تمام عمل بہت منصفانہ طریقے سے مکمل ہوا ہے
شہریار خان چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ

’ بال ٹیمپرنگ کے الزام کی شدت کو سامنے رکھتے ہوئے، جو کہ دراصل دھوکہ دہی کے الزام کے مترادف ہے، اور بال ٹیمپرنگ کے سلسلہ میں پیش کیئے گئے ثبوتوں کو دیکھتے ہوئے میں اس بات سے متفق نہیں ہوں کہ فیلڈنگ کرنے والی ٹیم (یعنی پاکستانی ٹیم) نے گیند کی حالت تبدیل کی تھی۔‘

مدو گالے نے مزید کہا کہ میرے خیال میں مذکورہ گیند اتنی ہی خراب ہوئی تھی جتنی کہ عمومی کھیل میں چھپن اوور کے بعد ہو جاتی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے کہا ہے کہ ’میں آئی سی سی کے فیصلے سے خوش ہوں اور تمام عمل بہت منصفانے طریقے سے مکمل ہوا ہے‘۔

اب تک کی اطلاعات میں یہ واضح نہیں ہے کہ انضباطی کارروائی کے فیصلے میں ایمپائر ڈیرل ہیئر کے بارے میں کچھ کہا گیا ہے یا نہیں۔

اسی بارے میں
انضمام کا بیان شروع
26 September, 2006 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد