گنگولی امپائرز کے سب سے ناپسندیدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قوانین سے اختلاف اور جذبات کے اظہار میں شدت امپائرز اور میچ ریفری کو قابل قبول نہیں اور ایسا کرنے والا کھلاڑی یا تو جرمانے کی زد میں آجاتا ہے یا پھر چند میچوں کے لئے باہر ہوجاتا ہے ۔ اگر اس کی قسمت اچھی ہے تو صرف سرزنش سے اس کی جان چھوٹ جاتی ہے۔ 1992 میں کرکٹ کا ضابطۂ اخلاق متعارف ہونے کے بعد ہر سال کرکٹرز کی ایک بڑی تعداد اس کی زد میں آتی رہی ہے۔ پاکستانی کپتان انضمام الحق سلو اووریٹ، حریف کھلاڑیوں کے بارے میں ریمارکس، جذبات پر قابو نہ رکھتے ہوئے امپائرز کے فیصلوں پر احتجاج یہاں تک کے ایک تماشائی کی پٹائی کرنے کے الزامات کے تحت 10مرتبہ سرزنش، جرمانے اور پابندی کی زد میں آچکے ہیں۔ لیکن یہ کسی کرکٹر کے خلاف آئی سی سی کی انضباطی کارروائی کی ریکارڈ تعداد نہیں ہے۔ جس کھلاڑی کو سب سے زیادہ مرتبہ آئی سی سی کی پیشیاں بھگتنی پڑی ہیں وہ پرنس آف کولکتہ سورو گنگولی ہیں ۔ غصے کے تیز سابق بھارتی کپتان 12 مرتبہ مختلف قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانوں اور میچز کی پابندی کی سزا بھگت چکے ہیں۔
سوروگنگولی پہلی مرتبہ1997 کے جوہانسبرگ ٹیسٹ میں میچ ریفری بیری جارمن کی زد میں آئے تھے جنہوں نے شدید انداز میں اپیل کرنے پر میچ فیس کا پچیس فیصد جرمانہ عائد کیا تھا۔ ایک سال بعد گنگولی کو جنوبی افریقی میچ ریفری پیٹر وان ڈر مرو نے آسٹریلیا کے خلاف بنگلور ٹیسٹ میں ایل بی ڈبلیو دیئے جانے پر غصہ کرنے کی پاداش میں ایک ون ڈے کی معطلی کی سزا سنائی اور پھر چند ہی روز بعد زمبابوے کے خلاف بڑودہ ون ڈے میں لوگو پالیسی کی خلاف ورزی پر انہیں میچ فیس کا پینتیس فیصد جرمانہ بھگتنا پڑا۔ 2001 میں گنگولی تین مرتبہ آئی سی سی کے ضابطۂ اخلاق کی زد میں آئے جن میں سب سے قابل ذکر جنوبی افریقہ کے خلاف پورٹ الزبتھ ٹیسٹ تھا۔ اس میچ میں ریفری مائیک ڈینس نے گنگولی کو اپنے کھلاڑیوں پر کنٹرول کرنے میں ناکامی کا مرتکب پایا تھا۔ یہ وہی ٹیسٹ ہے جس میں سچن ٹنڈولکر پر بال ٹمپرنگ کا الزام لگا اور سندرداس، دیپ داس گپتا، ہربھجن سنگھ اور وریندر سہواگ پر یہ الزام آیا کہ انہوں نے غیرضروری اپیلیں کیں۔ اس قضیے کے مرکزی کردار بھارتی کرکٹرز تو سزاؤں سے بچ گئے لیکن مائیک ڈینس کا میچ ریفری کی حیثیت سے کریئر ختم ہوگیا۔ پورٹ الزبتھ ٹیسٹ کے بعد بھی سوروگنگولی مزید پانچ مرتبہ میچ ریفری کے روبرو پیش ہوکر مختلف نوعیت کی سزائیں بھگت چکے ہیں۔ ان میں چھ ون ڈے میچوں کی پابندی کی بھاری بھرکم سزا بھی شامل ہے جو اپیل کے بعد چار میچوں تک کی کردی گئی تھی۔ پاکستانی فاسٹ بولر شعیب اختر، آسٹریلوی تیز بولر میک گرا اور جنوبی افریقی کپتان گریم سمتھ کو چھ چھ مرتبہ آئی سی سی اپنی گرفت میں لے چکی ہے۔ آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ پانچ مرتبہ میچ ریفری کے سامنے پیش ہوچکے ہیں جبکہ چار چار مرتبہ جرمانے اور میچز کی معطلی کی سزا پانے والوں میں بھارت کے نیان مونگیا، ہربھجن سنگھ، وینکٹیش پرشاد، سری لنکا کے کمارا سنگاکارا، آسٹریلیا کے شین وارن اور ایڈم گلکرسٹ قابل ذکر ہیں۔ | اسی بارے میں گنگولی پر پابندی، ثالثی کا مطالبہ29 July, 2005 | کھیل سورو گانگولی کے مداحوں کا احتجاج16 December, 2005 | کھیل کپتانی کا تنازعہ پھر خبروں میں23 September, 2005 | کھیل چیپل و گنگولی تنازع کا فیصلہ آج26 September, 2005 | کھیل گنگولی ٹیم سے پھر باہر03 September, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||