BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 December, 2005, 11:43 GMT 16:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سورو گانگولی کے مداحوں کا احتجاج
زیادہ تر احتجاج کولکتہ میں ہوئے ہیں
بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سورو گانگولی کو سری لنکا کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کے لیے ٹیم میں شامل نہ کرنے پر عوامی سطح پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔

سیاست دان، شائقین، سابق کرکٹرز اور اداکاروں نے گانگولی کو ٹیم میں شامل نہ کرنے پر احتجاج کیا ہے اور گانگولی کے آبائی شہر کولکتہ میں مظاہرے ہوئے ہیں۔

بھارتی کرکٹ بورڈ کے سربراہ شرد پوار نے بھی سابق کپتان گانگولی کو ٹیم میں شامل نہ کرنے پر ’صدمے‘ کا اظہار کیا۔ سری لنکا کے خلاف بھارت کا آخری ٹیسٹ احمد آباد میں کھیلا جانے والا ہے۔

ٹیم کے سلیکٹرز نے کہا ہے کہ گانگولی کو شامل نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کھیل میں حصہ لینے والے گیارہ کھلاڑیوں میں جگہ نہ پاسکتے تھے اور انہیں ریزرو کی حیثیت سے ٹیم میں رکھنا ٹھیک نہیں ہوتا۔

تاہم سلیکٹرز نے کہا ہے کہ احمدآباد ٹیسٹ کے لیے گانگولی کے ٹیم میں شامل نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کا عالمی کیریئر ختم ہوگیا۔

گزشتہ اکتوبر کوچ گریگ چیپل کے ساتھ ایک تنازعے کے دوران گانگولی کو ون ڈے ٹیم سے نکال دیا گیا تھا۔ انہیں ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے بھی ہٹا دیا گیا تھا۔

لیکن سری لنکا کے خلاف کھیلے جانے والے پہلے دو ٹیسٹ میچوں میں انہیں واپس بلایا گیا تھا لیکن انہوں نے انتالیس اور چالیس رنز بنائے تھے۔ اب سنیچر سے احمدآباد میں شروع ہونےوالے ٹیسٹ میں وہ نہیں کھیلیں گے۔

گانگولی کا عالمی کیریئر ختم ؟

کولکتہ میں چیف سلیکٹر کرن مورے اور کوچ گریگ چیپل کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں اور ان کے پتلے جلائے گئے۔ گانگولی کے مداحوں میں سے ایک نے کہا: ’ان کے ساتھ ہونے والے ناانصافی کے لیے ہمیں آواز اٹھانی چاہیے۔‘

کولکتہ میں ٹیلی ویژن اور فلموں کے اداکاروں نے ایک اجلاس کیا جس کے بعد گانگولی کو ٹیم میں واپس لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اداکار سومترا چٹرجی نے کہا: ’گانگولی کا شامل نہ کیا جانا کرکٹ کے گیم سے زیادتی ہے۔‘

مغربی بنگال کی کمیونسٹ حکومت کے دو وزراء نے کہا ہے کہ گانگولی ’گندی سیاست‘ کی وجہ سے ٹیم میں شامل نہیں کیے گئے۔

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے سینیئر سیاست دان گروداس داس گپتا نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ گانگولی کے معاملے کو پارلیمان میں اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا: ’میں ایوان زیریں کے سپیکر کا اجازت چاہوں گا تاکہ پارلیمان میں اس معاملے کو اٹھاؤں۔‘

سابق کپتان کپل دیو نے بھی گانگولی کے ٹیم میں نہ شامل کیے جانے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اخبار ’ہندو‘ کو بتایا: ’کافی افسوس ہے۔ سورو کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہئے، انہوں نے بھارتی کرکٹ کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد