انضمام کا بیان شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق نے کرکٹ کے کھیل کو بدنام کرنے اور بال کی حالت بدلنے کے الزامات میں آئی سی سی کی دو روزہ سماعت کے دوران اپنا بیان شروع کر دیا ہے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان پر اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ان کے کھیلنے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے اور جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ انگلینڈ میں اوول ٹیسٹ کے دوران ایمپائر ڈیرل ہیئر نے انضمام پر بال ٹیمپرنگ کا الزام لگایا تھا جس کے بعد انضمام ٹیم کو گراؤنڈ سے باہر لے گئے تھے۔ بی بی سی سپورٹ نے اس تنازعے کے اہم کرداروں پر روشنی ڈالی ہے۔ انضمام الحق
ایک سو تیرہ ٹیسٹ میچ اور تین سو ستاسٹھ ون ڈے میچ کھیلنے والے انضمام کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ بذاتِ خود نسبتاً ایک نرم رویے والے شخص ہیں۔ تاہم ان پر کی گئی ضابطۂ اخلاق کی کارروائیوں کی فہرست کافی طویل ہے۔ ماضی میں ان پر نو مرتبہ الزامات لگائے جا چکے ہیں اور تین مرتبہ ان کے کھیلنے پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔ بطور کپتان اوول کے میدان میں ٹیم کے کسی بھی رویے کی ان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ راجن مدوگالے
سری لنکا کے سابق کرکٹر مدوگالے آئی سی سی کے سینیئر میچ ریفری ہیں۔ انہوں نے اس کارروائی کی سماعت میچ کے پانچ روز کے بعد کرنا تھی لیکن خاندان میں کسی کی بیماری کی وجہ سے انہوں نے اپنا نام واپس لے لیا۔ تاہم ان کی شہرت اتنی اچھی ہے کہ ان کے متبادل کو تلاش کرنے کی کوششیں جلد ہی ختم کر دی گئیں اور نئی تاریخ رکھی گئی کہ وہ سماعت میں حصہ لے سکیں۔ مدو گالے یہ فیصلہ کریں گے کہ پاکستان نے بال کی حالت میں تبدیلی کی تھی اور پاکستانی ٹیم کے میدان سے باہر جانے سے کرکٹ کا کھیل بدنام ہوا ہے۔ ڈیرل ہیئر
آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ڈیرل ہیئر ایک تجربہ کار ایمپائر ہیں اور انہوں نے اب تک چھہتر ٹیسٹ اور ایک سو چوبیس ایک روزہ میچوں میں ایمپائرنگ کی ہے۔ ڈیرل ہیئر انگلینڈ کے حق میں میچ کا فیصلہ دینے میں بھی شامل تھے۔ اس کے بعد یہ بھی انکشاف ہوا کہ انہوں نے پانچ لاکھ ڈالر کے بدلے میں اپنا استعفیٰ دینے کی پیشکش بھی کی تھی۔ بلی ڈاکٹرو
اوول گراؤنڈ میں موجود دوسرے ایمپائر بلی ڈاکٹرو تھے۔ وہ ابتک صرف نو ٹیسٹ میچوں میں ایمپائر رہ چکے ہیں اور اس طرح ان کا تجربہ ہیئر سے کافی کم ہے۔ آئی سی سی کا کہنا ہے کہ دونوں ایمپائر پاکستان پر الزامات لگانے میں متفق تھے۔ تاہم کرک انفو ڈاٹ کام کی ایک رپورٹ کے مطابق ڈاکٹرو بال ٹیمپرنگ کا الزام عائد کرنے سے پہلے کھیل کو کچھ دیر اور جاری رکھنا چاہتے تھے۔ مائیک پراکٹر
دنیائے کرکٹ کے عظیم آل راؤنڈر جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے مائیک پراکٹر نے اوول کے میدان میں اس اجلاس کی سربراہی کی تھی جس میں دونوں ٹیموں کے کپتان اور پاکستان اور انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے حکام نے حصہ لیا تھا۔ اس اجلاس میں اس بات پر اتفاق ہو گیا تھا کہ آخری دن ٹیسٹ میچ کو دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔ تاہم ایمپائروں نے کھیل ختم کرنے کا اعلان کیا اور انگلینڈ کے حق میں میچ کا فیصلہ دے دیا۔ ڈاؤ کوئیی
سابق انٹرنیشنل ایمپائر اور آئی سی سی کے مینیجر کوئیی بھی اوول میں موجود تھے۔ میچ کے دو دن بعد انہیں ڈیرل ہیئر کی وہ ای میل آئی تھی جس میں انہوں نے پیسوں کے عوض استعفیٰ دینے کی پیشکش کی تھی۔ کوئیی نے جواب کے طور پر کہا تھا کہ ’آپ کی پیشکش قابلِ غور ہے‘۔ دوسرے ممکنہ گواہ ۔ شہریار خان، چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ |
اسی بارے میں ’آئی سی سی نہیں عدالت جانا چاہیے‘22 September, 2006 | کھیل ڈیرل ہیئر قوانین کے مطابق تھے: محبوب25 September, 2006 | کھیل انضی کا ’پیر پر کلہاڑی مارنا‘12 September, 2006 | کھیل انضمام الحق کی کپتانی برقرار06 September, 2006 | کھیل اوول ٹیسٹ: بال کا کیمیائی تجـزیہ06 September, 2006 | کھیل پاکستان کو ’آخری وارننگ‘05 September, 2006 | کھیل ’ہئیر سے تحقیقات پہلے کریں‘29 August, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||