BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 August, 2006, 03:59 GMT 08:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
احتجاج عزت کے لیئے کیا: ظہیر
امپائر ڈیرل ہیئر
بال ٹیمپرنگ کا الزام 56 اوور ہونے کے بعد لگایا گیا۔
سابق ممتاز بیٹسمین اور پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مینجر ظہیر عباس نے کہا ہے کہ پاکستان ٹیم جانتی تھی کہ وہ جو احتجاج کر رہی ہے اس کا نتیجہ کیا نکل سکتا ہے لیکن اس کے باوجود اس نے اپنی عزت کے لیئے احتجاج کیا۔

بی بی سی اردو کے عمر آفریدی اور بی بی سی ہندی کی ارمیلا شیکھاوت سے الگ الگ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ ہو چکا ہے اور ہم سیریز ہار چکے ہیں لیکن ایک روزہ میچوں میں ہم ثابت کریں گے کہ پاکستان کی ٹیم ایک اچھی ٹیم ہے۔

دکھائے بغیر بال تبدیل کر دی گئی
 ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ امپائر میچ ریفری مائک پروکٹر سے بات کرتا، بال پاکستانی کپتان کو دکھاتا لیکن بال انضمام کو دکھائے بغیر تبدیل کردی گئی
ظہیر عباس

ظہیر عباس کا کہنا تھا کہ بال ٹیمپرنگ کا الزام 56 اوور ہونے کے بعد لگایا گیا۔ اتنے اوور ہونے کے بعد بال ویسے بھی نشان پڑ جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی اصل بات یہ تھی کہ کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے بال (فیلڈنگ) کیپٹن کو دکھائی جائے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اور جب کپتان انضمام امپائر کے پاس گئے تو اس پر بھی انہوں نے ان کی بات پر کوئی توجہ نہیں دی۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ہم یہ سارا معاملہ تحریری طور پر آئی سی سی کو دیں گے اور قانون کو ہاتھ میں نہیں لیں گے۔ اس سوال کے جواب میں پاکستان کا احتجاج کس حد تک درست تھا؟ ظہیر عباس نے کہا کہ جب آپ کو ’چیٹ‘ (دھوکے باز) قرار دیا جائے۔ آپ کی بات سنے بغیر آپ پر پانچ رنز کا جرمانہ بھی کر دیا جائے تو آپ کیا کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ امپائر میچ ریفری مائک پروکٹر سے بات کرتا، بال پاکستانی کپتان کو دکھاتا لیکن بال انضمام کو دکھائے بغیر تبدیل کردی گئی۔ انہوں نے کہا پاکستان کی طرف سے پوری کوشش کی گئی ہے لیکن امپائر ’ڈیرل صاحب‘ بات سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کر رہے ہیں۔

ڈیرل نہیں ہوں گے
 ’پاکستان نے بتا دیا کہ اسے ڈیرل صاحب قبول نہیں ہیں اور وہ ایک روزہ میچوں میں نہیں ہونگے
ظہیرعباس

ظہیر عباس نے کہا کہ وہ اس وقت کوئی ایسی بات نہیں کرنا چاہتے جس سے ’نارمز‘ کی خلاف ورزی ہو سکتی ہو لیکن ہم طریقے کے مطابق بعد میں احتجاج کریں گے۔

ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے بتا دیا کہ اسے ڈیرل صاحب قبول نہیں ہیں اور وہ ایک روزہ میچوں میں نہیں ہوں گے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد