چوتھے روز کا کھیل ختم کر دیا گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اوول میں امپائروں کے میدان میں آنے سے انکار کے بعد چوتھے روز کا کھیل ختم کر دیا گیا ہے۔ تنازعہ کا آغاز چائے کے وقفے سے پہلے پاکستان کے خلاف گیند خراب کرنے کے الزام سے ہوا۔ چائے کے وقفے کے بعد پہلے پاکستانی کرکٹ ٹیم کھیلنے کے لیئے میدان میں نہیں آئی۔ امپائر اور انگلینڈ کے بلے باز پِچ پر پہنچ گئے تھے۔ پھر جو پاکستانی ٹیم میدان میں آئی تو امپائر نہیں تھے اور پاکستانی ٹیم دوبارہ واپس چلی گئی۔ پیر کو پانچویں روز کے کھیل کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں فیصلہ کرکٹ حکام اور امپائروں کے درمیان مذاکرات کے بعد ہوگا۔ امپائروں نے پاکستانی ٹیم کے خلاف بال خراب کرنے کا الزام لگا کر انگلینڈ کو پانچ رن دیئے تھے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہریار خان نے کہا ہے کہ کپتان اور ٹیم چائے کے وقفے کے بعد چند منٹ دیر سے میدان میں آ کر بال خراب کرنے کے الزام پر اپنا احتجاج درج کروانا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا پاکستان کا انگلینڈ کے کرکٹ بورڈ سے کوئی اختلاف نہیں اور وہ ایک روزہ سیریز میں بھی حصہ لیں گے اور اوول کا میچ بھی پورا کرنا چاہتے ہیں۔ کھیل چائے کے وقفے کے بعد چار بج کر پینتالیس منٹ پر شروع ہونا تھا لیکن پاکستان ٹیم میدان میں نہیں آئی۔ پانچ بج کر چوبیس منٹ پر پویلین میں ہلچل ہوئی اور پاکستانی ٹیم اپنے ڈریسنگ روم سے نمودار ہوئی لیکن اس وقت امپائر موجود نہیں تھے اور ٹیم دوبارہ پویلین میں چلی گئی۔ دریں اثنا امپائر بیلز وکٹوں سے ہٹا چکے تھے اور اس فعل کی مختلف انداز میں تشریح کی جا رہی جس میں ایک خیال یہ ہے کہ امپائروں نے میچ ختم کر دیا تھا۔ انگلینڈ نے اپنی دوسری اننگز میں چار وکٹوں کے نقصان پر دو سو اٹھانوے رن بنائے ہیں اور پاکستان کی برتری تینتیس رن کی رہ گئی ہے۔ پال کالنگ وڈ اور این بیل بیٹنگ کر رہے ہیں۔ پیٹرسن چھیانوے رن کی تیز رفتار اننگز کے بعد شاہد نذیر کی گیند پر وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے ایک سو چودہ گیندوں کا سامنا کیا اور تیرہ چوکے اور دو چھکے لگائے۔ انگلینڈ کے آؤٹ ہونے والے کھلاڑیوں میں پیٹرسن، کُک ، سٹراس اور ٹریسکوتھک شامل ہیں۔ کُک نے تراسی رن بنائے انہیں عمرگُل نے ایل بی ڈبلیو کیا۔ سٹراس ترپن رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔ انگلینڈ کی پہلی وکٹ آٹھ، دوسری ایک سو پندرہ اور تیسری دو سو اٹھارہ کے سکور پر گری۔ انگلینڈ نے پہلی اننگز میں ایک سو تہتر رن بنائے تھے جس کے جواب میں پاکستان نے پانچ سو چار رن بنائے اور انگلینڈ پر تین سو اکتیس رنز کی برتری حاصل کر لی۔ پاکستان کی اننگز کی خاص بات محمد یوسف کے ایک سو اٹھائیس رن تھے جو اس دورے میں ان کی تیسری سنچری ہے۔
عمران فرحت اور محمد حفیظ، سنچری بنانے میں ناکام رہے۔ محمد حفیظ پچانوے جبکہ عمران فرحت اکانوے رنز بنا کر آؤٹ ہو ئے۔ دونوں وکٹیں میتھیو ہوگارڈ نے حاصل کیں۔ فیصل اقبال اٹھاون رن پر ناٹ آؤٹ رہے۔ انگلینڈ کی ٹیم پہلے ہی دو ٹیسٹ جیت کر سیریز میں فیصلہ کن برتری حاصل کر چکی ہے اور انگریز کپتان نے کہا تھا کہ وہ اوول ٹیسٹ جیت کر سیریز تین صفر سے جیتنے کی کوشش کریں گے۔ اوول کے میدان پر ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کا ریکارڈ نہایت اچھا ہے اور اس نے اس میدان پر کھیلے گئے سات میں سے تین میچ جیتے ہیں جن میں سے دو سنہ 1990 میں ایک ہی سیریز میں جیتے گئے تھے۔ پاکستان کی ٹیم: انضمام الحق، کپتان، عمران فرحت، محمد حفیظ، یونس خان محمد یوسف، فیصل اقبال، کامران اکمل، عمر گل، شاہد نذیر، محمد آصف، دانش کنیریا۔ انگلینڈ کی ٹیم: اینڈریو سٹراس، مارکس ٹریسکوتھک، الیسٹر کک، پال کالنگ ووڈ، کیون پیٹرسن، این بیل، ریڈ، ساجد محمود، میتھیو ہوگارڈ، سٹیو ہارمیسن، مونٹی پنیسر۔ | اسی بارے میں اوول کے ٹیسٹ میں جیت یا ہار؟16 August, 2006 | کھیل پاکستان کو ٹھہراؤ کی ضرورت16 August, 2006 | کھیل شعیب اوول ٹیسٹ سے باہر16 August, 2006 | کھیل آصف اور رانا ٹیم میں واپس13 August, 2006 | کھیل انگلینڈ: ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں13 August, 2006 | کھیل انگلینڈ نے ٹیسٹ سیریز جیت لی08 August, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||