پاکستان کو ٹھہراؤ کی ضرورت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگلینڈ کے ساتھ جاری کرکٹ سیریز نے پاکستان کی آنکھیں کھول دی ہیں اور میرے خیال میں بعض اوقات مہمان ٹیم نے اپنا اصل رنگ بھی دکھایا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے بہت اچھی کرکٹ کھیلی ہے جس کی وجہ سے وہ ٹیسٹ ریٹنگ میں دوسرے نمبر پر آچکا ہے۔ لیکن وہ تمام میچ جو انہوں نے جیتے ہیں وہ تمام برصغیر میں کھیلے گئے جہاں وہ کھیلنے کے عادی ہیں۔ تاہم جب وہ آسٹریلیا، انگلینڈ میں آئی سی سی چیمپین ٹرافی اور حالیہ سیریز میں کھیلے انہیں مشکلات کا سامنا رہا۔ پاکستانی ٹیم کے لیئے موجودہ وقت کافی اہم ہے۔ وہ اوول میں آخری ٹیسٹ میچ جیتنے کی پوری پوری کوشش کرے گی۔ کپتان انضمام الحق پر سیریز میں شکست کی وجہ سے کڑی تنقید بھی جاری ہے۔ انہوں نے پاکستان کے لیئے پچھلے پندرہ برسوں میں زبردست خدمات پیش کی ہیں۔ وہ بطور کپتان بھی کافی اچھے رہے۔ البتہ وہ تیز بالروں کے سامنے پریشان نظر آئے۔ انہیں آخری ٹیسٹ میچ میں ٹیم کی بہتر بیٹنگ کے ذریعے مناسب قیادت فراہم کرنی چاہیے تھی۔ انہیں نمبر تین یا چار پر بیٹنگ کرنی چاہیے کیونکہ وہ کپتان ہیں۔ میرے خیال میں وہ بیٹنگ آڈر میں کافی دیر سے آتے ہیں۔ انضمام اتنے اچھے کھلاڑی ہیں مجھے پورا یقین ہے وہ آخری ٹیسٹ یا ایک روزہ میچوں میں بہتر کھیل پیش کریں گے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ان کی فارم بہتر ہوگی کیونکہ ہم انہیں عالمی کپ سے پہلے ہارنا نہیں چاہتے۔ میں گزشتہ اختتام ہفتہ شینلے میں پاکستان کا ویسٹ انڈیز اے کے ساتھ میچ دیکھنے گیا۔ میں نے نوٹس کیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے کئی اعلی اہلکار بھی دورہ کر رہی ٹیم کا حصہ ہیں۔ میرے خیال میں انہیں یہاں نہیں ہونا چاہیے تھا۔ کھلاڑی بورڈ چیئرمین کی موجودگی میں آرام نہیں کر سکتے۔ میرے خیال میں اس کا کھلاڑیوں پر برا اثر ہو رہا ہے۔ پاکستان ٹیم کی اکھاڑ پچھاڑ سے بھی کوئی خاص فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔ ان تبدیلیوں کی ایک وجہ تو کھلاڑیوں کا زخمی ہونا بھی ہے تاہم کوچ باب وولمر نے بھی ٹیم میں خصوصاً اوپنگ بلے بازوں سے چھیڑ چھاڑ کی ہے۔ اوول میچ میں انہیں سلمان بٹ اور توفیق عمر کو بدستور دوسرے میچ میں بھی اننگ شروع کرنے دینا چاہیے۔ پاکستان کو استحکام کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں پاکستان کو شیعب اختر کو کھیلا کر خطرہ مول نہیں لینا چاہیے۔ چھ ماہ تک باہر رہنے کی بعد ان کے لیئے پانچ روزہ میچ کھیلنا مشکل ہوگا۔ انہیں ایک روزہ سیریز میں کھیلنا چاہیے لیکن اوول میں نہیں۔ میری خواہش ہے کہ پاکستان کو مشتاق احمد کو طلب کرنا چاہیے تھا کیونکہ وہ انگلش ماحول سے اچھی طرح مانوس ہیں اور اپنی ٹیم سسیکس کے لیئے کافی کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔ ان کے آنے سے دانش کنیریا کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوسکتا تھا۔ دانش گیند مونٹی پنیسر سے زیادہ سپن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں البتہ اس سیریز میں وہ اپنی پوری صلاحتیوں کا مظاہرہ نہیں کر سکے ہیں۔ میں انگلینڈ کی کارکردگی سے کافی متاثر ہوا ہوں۔ اس نے زخمی کھلاڑیوں کے باوجود اچھا کھیل پیش کیا ہے۔ وہ ایک متحد ٹیم کی صورت میں کھیلے ہیں۔ انہوں نے یہ کارکردگی سری لنکا کے خلاف ایک روزہ میچوں کی سیریز پانچ صفر سے ہارنے کے باوجود وہ کھیل میں واپس آئے ہیں۔ انگلینڈ کے بڑے کھلاڑی نہ ہونے کی باوجود وہ مل کر اچھا کھیل رہے ہیں اور ان کے کپتان اینڈریو سٹراس ایک اچھے کپتان ثابت ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں انگلینڈ: ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں13 August, 2006 | کھیل ’غدار کہتے ہیں تو کہتے رہیں‘09 August, 2006 | کھیل انگلینڈ نے ٹیسٹ سیریز جیت لی08 August, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||