’غدار کہتے ہیں تو کہتے رہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگلینڈ کی ٹیم میں شامل پاکستانی نثراد تیز بالر ساجد محمود نے کہا ہے کہ انہیں پاکستان کے خلاف ٹیسٹ میچ میں بعض کرکٹ شائقین کی فقرے بازی اور انہیں غدار کہنے سے پریشان نہیں ہیں۔ بی بی سی اردو سروس سے کے پروگرام سیربین میں خصوصی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی تمام تر توجہ اپنی کارکردگی پر مرکوز رکھی کیونکہ اس وقت ان کے پیش نظر صرف ان ٹیم کی کامیابی تھی۔ واضح رہے کہ ساجد محمود نے ہیڈنگلے میں پاکستان کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں صرف بائیس رن کے عوض پاکستان کے چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے انگلینڈ کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ ٹیسٹ اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ انگلینڈ نے اس کامیابی سے نہ صرف یہ میچ بلکہ سیریز ہی جیت لی ہے۔
ساجد محمود نے کہا کہ ان کی بہترین کارکردگی کے باوجود وہ نہیں سمجھتے کہ انہوں نے ٹیم میں مستقل جگہ بنا لی ہے۔ اس کے لیئے انہوں مزید کچھ ٹیسٹ میچ کھیل کر اپنے آپ کو منوانا ہوگا۔ میرے اس سوال کے جواب میں کہ ان کے والدین کا تعلق پاکستان سے ہے، تو پاکستانی قومی ٹیم کے مدمقابل ایک دشمن فریق کے طرح کھیلنا انہیں کیسا محسوس ہوا؟ ساجد کا کہنا تھا: ’ہاں کچھ عجیب سا تو لگ رہا تھا۔ اس کے باوجود مجھے بہت ہی مزہ آیا‘۔ پاکستانی بلے بازوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یونس خان، محمد یوسف اور انضمام دنیا کے بہترین بلے باز ہیں۔ ’یہ بیٹسمین ہمارے لیئے خطرہ اور ہمارا خصوصی ہدف تھے۔ اور دراصل محمد یوسف کے رن آؤٹ ہونے سے ہی پاکستان کی شکست کا آغاز ہوگیا تھا‘۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ پاکستان جا کر کھیلنا پسند کریں گے۔ ساجد محمود کا کہنا تھا کہ وہ انگلینڈ کی جانب سے پاکستان میں ضرور کھیلنا چاہیں گے۔ ان کے بہت سے عزیز رشتےدار وہاں رہتے ہیں۔ جو ان کا کھیل دیکھ سکیں گے۔ مگر انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ان کے اپنے عزیز رشتے دار انہیں غدار نہیں کہیں گے۔
ساجد محمود کا کہنا تھا: ’میرے لیئے غدار کا لفظ استعمال کرنا مناسب نہیں۔ میرے والدین کا تعلق پاکستان سے ضرور ہے۔ مگر میں انگلینڈ میں پیدا ہوا یہیں پلہ بڑھا اس ملک کی ٹیم میں شامل ہوں لہذا اب اس ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کرانا ہی میری ذمہ داری اور کامیابی ہے‘۔ ساجد نے اس دوران ایک وکٹ کے حصول کے بعد تماشائیوں کی جانب دیکھ کر اشارے بھی کیئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ’ باؤنڈری پر فیلڈنگ کے دوران مجھے بہت سے فقرے سننے کو ملے اور پھر میں نے وکٹ لی، اس لیئے تب میں سننا چاہتا تھا کہ وہ اس وقت کیا کہہ رہے تھے‘۔ ساجد کا کہنا ہے کہ ان کے والد پاکستان اور انگلینڈ کی حمایت کے معاملے میں مخمصے کا شکار ہیں۔ ’ تاہم میں نے انہیں بتا دیا تھا کہ انہیں اس سیریز میں انگلینڈ کی حمایت کرنی ہے‘۔ | اسی بارے میں انگلینڈ نے ٹیسٹ سیریز جیت لی08 August, 2006 | کھیل پاکستانی نژاد فاسٹ بالر کا خواب26 July, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||