BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 August, 2006, 16:18 GMT 21:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اوول کے ٹیسٹ میں جیت یا ہار؟

اوول
اوول پر مطلع ابر آلود اور پاکستان ساکھ بچانے کی کوشش میں
لندن کے تاریخی میدان اوول میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان چوتھا اور آخری ٹیسٹ 17 اگست سے کھیلا جا رہا ہے۔

پاکستان پہلا ٹیسٹ لارڈز پر ڈرا کرنےاور دوسرے اور تیسرے ٹیسٹ میں شکست کھانے کے بعد ضرور اس کوشش میں ہوگی کے اپنی ساکھ بچانے کے لیئے اگر آخری میچ جیت نہ سکے تو کم سے کم برابر ہی کر لے۔

میچ کے نتیجے کا انحصار بہرحال پاکستان کی اپنی کارکردگی پر ہوگا۔پاکستان کی غیرمعیاری بالنگ اور قدرے خراب بیٹنگ کے باعث پاکستان یہ سیریز ہار گیا۔ اب شعیب اختر بھی ٹیم میں واپس آچکے ہیں اور نویدالحسن اور محمد آصف جو زخمی ہونے کی وجہ سے پہلے تین ٹیسٹ میں نہیں کھیل سکے وہ بھی اوول کے میدان میں کھیلنے کے امیدوار ہیں۔

لیکن لگتا یہی ہے کے نہ شعیب اختر کھیلیں گے اور نہ نویدالحسن، بلکہ اب محمد سمیع کی جگہ آخری ٹیسٹ میں محمد آصف کے کھیلنے کے چانسز بہت ہی روشن ہیں۔ اور ان کے ساتھ فاسٹ بالروں میں عمر گل،شاہد نذیراور عبدالرزاق ہوں گے اور لیگ اسپنر دانش کنیریا۔

پاکستان کے چند کھلاڑی جیسے سلمان بٹ، توفیق عمر اور سمیع اللہ نیازی کو بھی فارغ کر دیا گیا ہے۔ اس لیے اب عمران فرحت کے ساتھ اوپننگ بیٹسمین ہونگے محمد حفیظ جنہوں نے حال ہی میں پاکستان کی ’اے، ٹیم کی طرف سے آسٹریلیا کے حالیہ دورے میں سنچری بناتے ہوئے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

پاکستانی کھلاڑی میچ کی تیاری کرتے ہوئے

انگلینڈ کی ٹیم میں تبدیلی کے امکانات کم ہیں۔ پاکستان کے کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کے اوول کی وکٹ پر رن کافی بنتے ہیں اور امید یہی کی جاتی ہے کے اس میچ میں ہماری کارکردگی بہتر ہوگی۔

اوول کے میدان میں دنیا کی تمام ٹیموں سے ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کا ریکارڈ بہتر ہے۔ پاکستان نے اس گراونڈ پر سات ٹیسٹ میچوں میں تین ٹیسٹ جیتے ہیں۔ اپنے پہلے دورے پر 1954 میں پاکستان نےیہاں انگلینڈ کو چوبیس رن سے شکست دی تھی جب فضل محمود نے بارہ وکٹیں لی تھیں اور 1992 اور 1996 میں بھی پاکستان کو یہاں کامیابی ہوئی۔

1992 میں پاکستان نے جاوید میاں داد کی کپتانی میں دس وکٹوں سے یہاں کامیابی حاصل کی تھی اور 1996 میں وسیم اکرم کی قیادت میں نو وکٹوں سے انگلینڈ نے یہاں شکست کھائی تھی اور 1987 میں پاکستان یہاں 708 رن بنانے کے باوجود خراب فیلڈنگ کی وجہ سے انگلینڈ کو ہرا نہیں سکی تھی۔ عمران خاں، سلیم ملک نے اس میچ میں سنچریاں بنائی تھیں اور میانداد نے ڈبل سنچری۔

اوول پر کل بارش ہو رہی تھی لیکن پھر بھی پاکستان کے کھلاڑیوں کی یہی کوشش تھی کہ جب بھی موقع ملے تو ٹیسٹ میچ کے لیئے اپنے ہاتھ پیر کھول لیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستان کی ٹیم اس دورے میں اوول کے میدان پر پہلے جییسی کارکردگی دکھا کر کیا اپنے کچھ آنسو پونچھ سکتی ہے یا نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد