پاکستان ٹیم ہر شعبے میں ناکام: تبصرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی لگاتار دو ٹیسٹ میچوں میں شکست اور چوبیس سال میں انگلینڈ میں پہلی بار سیریز ہارنے پر ظاہر ہے کے پاکستان کی ٹیم کے مداحوں کو کافی افسوس ہوا ہوگا۔ خاص کر ایسی صورت میں جبکہ صرف پچھلے سال کے اواخر میں ہی پاکستان نے انگلینڈ کو ہوم سیریز میں دو ٹیسٹ میچوں سے شکست دے کر سیریز جیت لی تھی۔ اس کے فوراً بعد ہی بھارت اور سری لنکا کے خلاف بھی پاکستان کی کارکردگی اچھی رہی تھی۔ تو اچانک اس ٹیم کو ہار سے کیوں دو چار ہونا پڑ رہا ہے؟ وجوہات تو اس کی بہت سی ہو سکتی ہیں اور اس سلسلے میں مختلف مبصرین کی ظاہر ہے کے مختلف راۓ ہوگی۔ لیکن سیدھی بات یہ ہے کہ ٹیم جب سلیکٹ ہوی تو تمام فاسٹ بالرز فٹ تھے۔ لیکن انگلینڈ کا دورا شروع ہوتے ہی نویدالحسن، محمد آصف زخمیوں کی لسٹ میں شامل ہو گۓ اور ساتھ میں شعیب ملک بھی۔ اور ہاں انگلینڈ کا بھی یہی حال تھا۔ اینڈریو فلنٹوف بھی نہیں، مائیکل وان بھی نہیں اور سائیمن جونس بھی زخمی ہونے کی وجہ سے ٹیم میں نہیں۔ فرق صرف یہی تھا کے انگلینڈ کی بالنگ قدرے بہتر اور پاکستان کی بیٹنگ میں محمد یوسف، یونس خان اور انظمام الحق کے ہوتے ہوۓ کافی مضبوط سمجھی جاتی تھی۔ لیکن کرکٹ کے کھیل مین ٹیم وہی کامیاب ہوتی ہے جس کا پرفارمنس آل راؤنڈ ہو۔ پہلا ٹیسٹ تو پاکستان نے محمد یوسف اور انظمام الحق کی بیٹنگ کی وجہ سے بچا لیا لیکن دوسرے ٹیسٹ میں اسٹیو ہارمیسن اور مونٹی پنیسر کے سامنے پاکستان کے بیٹسمینوں کا جلوس نکل گیا۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ بالروں نے بھی ساتھ نہیں دیا۔
شعیب اختر جنہوں نے انگلینڈ کےخلاف سترہ وکٹیں پاکستان میں لی تھی وہ زخمی ہونے کی وجہ سے ٹیم میں شامل نہیں تھے۔ دانش کنیریا جنہوں نے پاکستان کی وکٹوں پر کامیابی سے بالنگ کر کے پاکستان کو فتح سے ہمکنار کیا تھا وہ بھی نہیں چل سکے۔ پاکستان کی فیلڈنگ غیر معمولی طور پر ناقص رہی۔ پہلے ہی ٹیسٹ میں چھ کیچ پاکستان نے گرا دیۓ اور مسلسل پاکستان کے کھلاڑی خراب فیلڈنگ کرتے رہے۔ ایک ہفتے میں جنوبی افریقہ کے مشہور فیلڈر جانٹی روڈز نے جو کچھ بھی سکھایا ہوگا وہ بھول گۓ۔ اور ہاں وکٹ کیپر کامران اکمل نے بھی کافی مایوس کیا۔ بھارت کےخلاف اچھی کارکردگی کے باوجود وہ اپنی فارم برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں رہے۔ وکٹ کیپنگ کی طرح وہ رن بنانے میں بھی پیچھے رہے۔ پاکستان کے اوپننگ بیٹسمین عمران فرحت، سلمان بٹ اور توفیق عمر ٹیل انڈرز کی طرح جیسے دس اور گیارہ نمبر کے کھلاڑی کھیلتے ہیں اسی طرح بیٹنگ کرتے رہے اور اپنی ٹیم کو دباؤ میں ڈالے رکھا۔ اور جب وقت آیا ہیڈینگلے کے تیسرے ٹیسٹ میں فائنل ٹیسٹ سے پہلے سیریز برابر کرنے کا تو وہاں دوسری اننگز میں تین سو تئیس رن کا حدف حاصل کرنے کی بجاۓ 155 رن بنا کر ڈھیر ہوگۓ۔
ایسا لگتا تھا کے پہلی باری میں 23 رن کی برتری حاصل کرنے کے بعد پاکستان کی میچ پر گرفت مضبوط ہو جائیگی لیکن چوتھے دن کے کھیل میں پاکستان کی بالنگ اس قدر ناقص تھی کے انگلینڈ کے بلے بازوں نے ایک ہی دن میں 342 رن بنا کر اپنی ٹیم کو ایسے مقام پر لا کھڑا کیا جہاں سے پاکستان کو ٹارگٹ حاصل کرنا مشکل ہوگیا۔ آخری دن کے کھیل میں پاکستان کی وکٹیں گرتی رہیں اور پاکستانی کھلاڑی دم بخود ہوکر اپنے دانتوں میں انگلیاں دبا کر بیٹھے رہے۔ آخری دن چاہیے تو یہ تھا کہ پاکستان پہلے دو سیشن انتہائی محتاط ہوکر کھیلتا اور آخر میں میچ جیتنے کی یا ڈرا کرانے کی کوشش کرتا۔ لیکن پاکستانی بیٹنگ سے محسوس ہوتا تھا کہ جیسے ہدف سو رن کا تھا اور اوول جانے کی جلدی تھی۔ منصوبہ بندی اور اپلیکیشن کی کمی واضع طور پر نظر آئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم اس دورے کے آخری ٹیسٹ میں اپنی ناک بچانے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔ | اسی بارے میں انگلینڈ نے ٹیسٹ سیریز جیت لی08 August, 2006 | کھیل پاکستان جیتنے کے لیئے 323 درکار07 August, 2006 | کھیل پاکستان کی انگلینڈ پر برتری06 August, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||