کرکٹ کا چمکتا ستارہ: مرلی دھرن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
موتھایا مرلی دھرن جب 1998 میں پہلی دفعہ انگلینڈ کے دورے پر آئے تو اس وقت وہ چھ سال سے ٹیسٹ کرکٹ کھیل چکے تھے۔ انگلینڈ نے 1998 میں سری لنکا کے ساتھ صرف ایک ٹیسٹ کھیلنے کی حامی بھری۔اس ٹیسٹ میں مرلی دھرن نے سولہ وکٹیں حاصل کر کے اپنی ٹیم کو فتح دلا دی۔ آٹھ سال بعد بھی مرلی نے اپنی ٹیم کو اتنی ہی شاندار بولنگ کر کے فتح دلائی ہے اور یہ دورہ شاید مرلی دھرن کا انگینڈ کا آخری دورہ ہو گا۔ مرلی دھرن نے جو انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک ہزار سے زیادہ وکٹیں حاصل کر چکے( ٹیسٹ اور ون ڈے میں ) عندیہ دیا ہے کہ وہ شاید اگلے ورلڈ کپ کے بعد کرکٹ کو خیر باد کہہ دیں گے۔ ٹرینٹ بریج ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں مرلی دھرن نے انگینڈ کی گرنے والی پہلی سات وکٹیں حاصل کیں اور ایک موقع پر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ جم لیکر اور انیل کمبلے کے بعد ایک اننگز میں دس وکٹیں حاصل کرنے والے تیسرے بولر بننے والے ہیں۔اس اننگز میں مرلی دھرن نے آٹھ وکٹیں حاصل کیں اور میچ میں مجوعی طور پر میچ میں گیارہ وکٹیں حاصل کیں۔ سری لنکا کی ٹیم نے جب دو ہزار دو میں انگلینڈ کا دورہ کیا تو اس وقت بھی مرلی دھرن ٹیم کا حصہ تھے لیکن اس دورے میں وہ کوئی خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے اور انگلینڈ نے باآسانی سیریز جیت لی۔ لیکن اس کے بعد مرلی دھرن نے اپنا نیا ہتھیار ’دوسرا‘ متعارف کروایا اور ایک مرتبہ پھر اپنے عروج پر پہنچ گئے ہیں۔اس وقت مرلی دھرن آئی سی سی رینکنگ میں بولروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہیں۔ ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ میں غیر معمولی کامیابیوں کے باوجود مرلی دھرن ایک متنازعہ بولر رہے ہیں اور ان کے نقاد ان کے ایکشن پر اعتراضات اٹھاتے رہتے ہیں۔ مرلی دھرن کے ایکشن کا کئی دفعہ معائنہ کیا گیا لیکن ہر دفعہ ان کے بولنگ ایکشن کو ٹھیک قرار دیا گیا۔ چونیتس سالہ مرلی دھرن نے 1992 میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور ٹیسٹ میں چھ سو پینتالیس وکٹیں حاصل کر کے دنیا میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے شین وارن کے بعد سب سے کامیاب بولر ہیں۔ | اسی بارے میں وارن نے عالمی ریکارڈ برابر کر دیا13 July, 2004 | کھیل مرلی کا ایکشن درست قرار پا گیا04 February, 2006 | کھیل پانچ وکٹوں کی نصف سینچری08 March, 2006 | کھیل مرلی دھرن، ایکشن ناقابلِ تقلید ہے03 April, 2006 | کھیل :مرلی دھرن سے خطرہ ہے: فلنٹاف30 May, 2006 | کھیل مرلی کی باؤلنگ پر پھر سوال11 May, 2004 | کھیل ’ریکارڈ بنتے ہی ٹوٹنے کے لئے ہیں‘ 09 May, 2004 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||