مرلی دھرن، ایکشن ناقابلِ تقلید ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے سری لنکا کے آف اسپنر متایا مرلی دھرن شاندار کارکردگی سے زیادہ اپنے بالنگ ایکشن کی وجہ سے شہ سرخیوں میں رہے ہیں۔ عالمی کرکٹ کے معاملات چلانے والوں کے نزدیک ان کا بالنگ ایکشن مشکوک ہے لیکن مرلی کے حامی اسے منفرد قرار دیتے ہیں۔ یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ مرلی دھرن کا سحر بیٹسمینوں کوگھورتی ان کی چمکتی آنکھوں میں ہے یا ان کی پرفریب گیندوں میں۔ وجہ کچھ بھی ہو اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ33 سالہ تامل آف اسپنر کرکٹ کی تاریخ کے سب سے کامیاب بالر ہیں لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں چھ سو اور ون ڈے میں چار سو سے زائد وکٹیں حاصل کرنے کے باوجود مرلی دھرن کے لیئے کرکٹ کبھی پھولوں کی سیج نہیں رہی۔
مرلی دھرن کے لیئے حریف بیٹسمینوں سے زیادہ مشکل ڈیرل ہیئر راس ایمرسن اور کرس براڈ رہے ہیں جنہوں نے تین مرتبہ ان کے بالنگ ایکشن کو کرکٹ قوانین کے منافی قراردیا یا پھر وہ آسٹریلوی شائقین جنہوں نے طنزیہ فقروں والے پلے کارڈز دکھاکر انہیں مشتعل کرنا چاہا ہے۔ سری لنکا کے سابق کرکٹر اور موجودہ کمنٹیٹر رنجیت فرنینڈو کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں مرلی کا حوصلہ پست نہیں بلکہ بلند ہوا ہے ۔ ان کی جگہ اگر کوئی دوسرا ہوتا تو اس صورتحال میں ہتھیار ڈال دیتا۔جہاں تک ان کے بالنگ ایکشن کا تعلق ہے تو اسے خامی کہیں یا خوبی یہ پیدائشی ہے۔ رنجیت فرنینڈو کا کہنا ہےکہ سری لنکا کی کرکٹ کے لیئے مرلی دھرن کی خدمات شاندار ہیں۔ وہ ’لیجنڈ‘ ہیں۔ مرلی کے بولنگ ایکشن کے بارے میں رنجیت فرنینڈو کہتے ہیں کہ وہ دوسرے آف اسپنرز سے منفرد ہیں جو کلائی سے گیند اسپن کرتا ہے جبکہ دوسرے انگلیوں کا استعمال کرتے ہیں۔ سری لنکا ہی نہیں پاکستانی نوجوان کرکٹرز میں بھی مرلی دھرن کے منفرد بالنگ ایکشن کو اپنانے کا رجحان بڑھا ہے۔ کمنٹیٹر چشتی مجاہد کے خیال میں اس کی وجہ مرلی کی شاندار کارکردگی ہے جو نئے بالرز کو اپنی جانب متوجہ کررہی ہے لیکن یہ رجحان خطرناک ہے کیونکہ مرلی کے بازو کی پیدائشی غیرمعمولی ساخت ثابت ہوچکی ہے لیکن جو بالرز انہیں کاپی کررہے ہیں وہ جسمانی طور پر نارمل ہیں لہذا جب وہ بڑی کرکٹ میں آئیں گے تو مشکل میں پھنس جائیں گے۔ پاکستان کے سابق کپتان رمیز راجہ مرلی دھرن کی عظمت سے انکار نہیں کرتے لیکن ان کا کہنا ہے کہ مرلی دھرن کا بالنگ ایکشن نوجوان بالرز کے لیئے آئیڈیل نہیں۔ اگر ان کا موازنہ شین وارن سے کیا جائے تو ان کے خیال میں وارن واضح طور پر فاتح نظرآئیں گے اور مرلی کو اگر مگر کے ساتھ بڑا بالر کہا جائے گا جس پر سوالیہ نشان بھی لگے ہونگے اس کے باوجود وہ ایک زبردست ٹیم مین ہیں جنہوں نے سری لنکا کے لیئے غیرمعمولی کارکردگی دکھائی ہے۔ پاکستانی کپتان انضمام الحق مرلی کے بالنگ ایکشن پر ہونے والی تمام تر بحث کے باوجود ان کی غیرمعمولی صلاحیتوں کے معترف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان جیسا خطرناک آف اسپنر انہوں نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس تمام تر بحث میں مرلی دھرن کا سفر جاری ہے۔ شاندار کارکردگی کے اس سفر میں شین وارن کا ٹیسٹ کرکٹ اور وسیم اکرم کا ون ڈے انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ وکٹوں کا عالمی ریکارڈ مرلی دھرن کے قدموں تلے آتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ | اسی بارے میں وولمر سیریز میں فتح کے خواہشمند01 April, 2006 | کھیل ہیئر اور مرلی کا سامنا نہیں ہوگا01 April, 2006 | کھیل اپنے ٹیسٹ کیریئر پر ناز ہے: جے سوریا02 April, 2006 | کھیل سری لنکن کپتان جیت کے منتظر02 April, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||