سری لنکن کپتان جیت کے منتظر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور سری لنکا کے کپتان کینڈی ٹیسٹ میں اچھی کارکردگی کے لئے پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔ میزبان ٹیم کے کپتان مہیلا جے وردھنے کو اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ سری لنکن ٹیم بیس سال سے اپنے ملک میں پاکستان کے خلاف ٹیسٹ میچ نہیں جیتی اور وہ اس جمود کو توڑنا چاہتے ہیں۔ تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ فتح کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ سری لنکن ٹیم کتنا اچھا کھیلتی ہے۔ ان کے مطابق یہ نوجوان ٹیم ہے اور اگر وہ پلاننگ کے مطابق کھیلے تو مطلوبہ نتیجہ برآمد ہوسکتا ہے۔ مرون اتاپتو کی غیرموجودگی میں قیادت کی ذمہ داری نبھانے والے جے وردھنے کہتے ہیں کہ کینڈی میں ان کی کامیابی کا امکان موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ون ڈے سیریز سے ان کی ٹیم نے بہت کچھ سیکھا ہے اور پہلے ٹیسٹ میں بہتری نظر آئی ہے۔ سری لنکن کپتان کے مطابق وہ نتیجے پر فوری طور پر توجہ مرکوز نہیں کرتے بلکہ ہر دن کی کارکردگی کے بارے میں سوچتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’اگر کارکردگی اچھی ہوگی تو نتیجہ بھی اچھا آئے گا۔ جے وردھنے کا کہنا تھا کہ پہلے ٹیسٹ ان کی ٹیم نے پاکستانی ٹیم پر دباؤ رکھا اور وہ کوشش کریں گے کہ کینڈی میں بھی ابتداء ہی سے پاکستان کو دباؤ میں رکھا جائے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اگر انہوں نے پاکستانی ٹیم کو ایڈوانٹج دے دیا تو پھر مشکل ہوجائے گی کیونکہ پاکستان ایک تجربہ کار ٹیم ہے۔ جے وردھنے کے خیال میں اسگیریا سٹیڈیم کی وکٹ ٹیسٹ کے لیئے مناسب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’عام طور پر کینڈی میں دوسرے میدانوں کے برعکس گیند زیادہ ٹرن ہوتی ہے لیکن یہ ’سلو‘ معلوم ہوتی ہے اور ہم دلہارا فرنینڈو کی جگہ کالوسیکرا کو کھلانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں‘۔ میزبان ٹیم میں دوسری تبدیلی بندارا کی جگہ سجیوا کی صورت میں متوقع ہے۔ پاکستانی کپتان انضمام الحق کے مطابق پہلا دن بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ کسی حد تک وکٹ میں ناہمواری ہے جس سے فاسٹ بولرز کو مدد ملے گی۔ انضمام الحق جو اس میدان پر بارہ سال پہلے سنچری بناچکے ہیں کہتے ہیں کہ موجودہ وکٹ اس جیسی ہی معلوم ہوتی ہے جس پر فاسٹ بولرز کو مدد ملی تھی لیکن چھ سال پہلے جب وہ یہاں کھیلے تھے تو آسان وکٹ تھی جس پر اتاپتو نے ڈبل سنچری بنائی تھی۔ پاکستانی ٹیم میں ایک تبدیلی کا امکان ہے۔ شاہد آفریدی کو ڈراپ کرکے محمد یوسف کو ٹیم میں واپس لایا جائے گا جو کولمبو ٹیسٹ ہمسٹرنگ کی تکلیف کی وجہ سے نہیں کھیلے تھے۔ | اسی بارے میں وولمر سیریز میں فتح کے خواہشمند01 April, 2006 | کھیل شعیب ملک کی سنچری، میچ ڈرا30 March, 2006 | کھیل اپنے ٹیسٹ کیریئر پر ناز ہے: جے سوریا02 April, 2006 | کھیل ہیئر اور مرلی کا سامنا نہیں ہوگا01 April, 2006 | کھیل جےسوریا، ٹیسٹ کرکٹ کو الوداع31 March, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||