جےسوریا، ٹیسٹ کرکٹ کو الوداع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا کے سابق کپتان اور جارحانہ بیٹنگ کے لیئے مشہور اوپنر سنتھ جےسوریا نے ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے جمعہ کو کولمبو میں سری لنکن سلیکٹرز کو آگاہ کردیا ہے کہ تین اپریل سے کینڈی میں پاکستان کے خلاف شروع ہونے والا ٹیسٹ میچ ان کے کریئر کا آخری ٹیسٹ ہوگا۔ تاہم چھتیس سالہ جےسوریا نے کہا کہ وہ ورلڈ کپ تک ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔جےسوریا کا کہنا ہے کہ یہ ایک مشکل فیصلہ ہے جو انہوں نے کافی سوچ بچار کے بعد کیا ہے۔ کافی دنوں سے وہ فٹنس مسائل کا شکار رہے۔ کاندھے کی تکلیف کے بعد پیر کا مسل کھنچ جانے کے سبب وہ ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ پاکستان کے خلاف کولمبو ٹیسٹ میں ان کی واپسی ہوئی لیکن وہ واپسی کو یادگار بنانے میں ناکام رہے۔ سنتھ جےسوریا نے ایک سو ایک ٹیسٹ میچوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کی ہے جن میں ان کے14 سنچریوں اور29 نصف سنچریوں کی مدد سے بنائے گئے رنز کی6599 تعداد ہے۔ وہ ٹیسٹ کرکٹ کی سب سے بڑی شراکت میں روشن مہانامہ کے ساتھ شریک ہیں۔ کرکٹ کے میدانوں میں جےسوریا بولرز کے لیئے دہشت کی علامت کے طور پر مشہور رہے ہیں۔ اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے انہوں نے ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں طرز کی کرکٹ میں اپنی الگ پہچان کرائی۔ 357ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں انہوں نے19 سنچریوں اور60 نصف سنچریوں کی مدد سے10625 رنز اسکور کیے ہیں۔ 1996 کے ورلڈ کپ میں سری لنکا کی جیت میں جےسوریا کی شاندار بیٹنگ نے کلیدی کردار ادا کیاتھا۔ | اسی بارے میں جے سوریا کو کپتانی چھوڑنا راس آ گیا24 October, 2004 | کھیل جے سوریا کے دس ہزار10 August, 2005 | کھیل جے سوریا، واس کی واپسی کی امید22 March, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||