بال ٹیمپرنگ تنازعہ: انضمام ڈٹ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کپتان انضمام الحق نے کہا ہے کہ بال ٹیمپرنگ پر سخت موقف اختیار کرنے پر ان کو کوئی ندامت نہیں ہے۔ آئی سی سی نے انضمام الحق پر بال ٹیمپرنگ اور کھیل کی بدنام کرنے کا باقاعدہ الزام لگایا ہے جس کی سماعت جمعہ کے روز ہوگی۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ وہ اتوار کی رات پرسکون نیند سوئے ہیں کیونکہ ان کو یقین ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ ٹھیک ہے۔ آئی سی سی نے انضمام الحق پر الزام لگایا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے رویہ کی ذمہ دار ہیں۔ انضمام الحق نے کہا کہ یہ سارا مسئلہ اچانک پھٹ پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھا امپائر اس طرح کا مسئلہ پیدا ہونے کے آثار ٹیم کپتان کو اس سے آگاہ کرتا ہے تا کہ وہ اس کا سدباب کر سکے۔ انضمام الحق نے کہا کہ ان کو اس کا پتہ اس واقعہ کا پتا چلا جب امپائر ڈیرل ہیئر گیند کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ ’ڈیرل ہیئر نے نہ تو گیند خراب کرنے والے بالر کا ذکر کیا اور نہ ہی کوئی ثبوت پیش کیا اور صرف گیند کو تبدیل کرنے کا بتایا‘۔ ’جب میں ڈیرل ہیئر سے گیند دکھانے کا مطالبہ کیا تو انہوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ میں اس کے لیے میچ ریفری سے رابطہ کروں۔ جب میں نے اصرار کیا تو ڈیرل ہیئرگیند دکھانے پر رضامند ہوئے۔ جس کی شکل ایک ایسی گیند کی تھی جو چھپن اوور پرانی گیند کی ہوتی ہے۔ انضمام الحق نے کہا جب بال ٹیمپرنگ کا مسئلہ اٹھا اس وقت پاکستان کی جیت کے ستر فیصد امکانات تھے لیکن وہ ٹیم کو بے عزتی ہوتے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ انضمام الحق نے کہا جب ٹیم کی جیت اور ملک کے وقار میں ایک چیز کا انتخاب کرنا ہو تو ملک کی عزت زیادہ بڑا چیز نظر آتی ہے۔ |
اسی بارے میں پاکستان کو گیند خراب کرنے پر سزا20 August, 2006 | کھیل پاکستان 331 آگے، انگلینڈ 78پرایک 19 August, 2006 | کھیل شعیب، شاہد ایک روزہ ٹیم میں شامل20 August, 2006 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||