BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 August, 2006, 19:11 GMT 00:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹیم مینجمنٹ کنفوژن کا شکار

انجام کار دو الگ الگ پریس کانفرنس ہوئیں
پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ کوئی میڈیا مینجر نہیں؟

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بال ٹیمپرنگ کے مسئلے پر اپنا موقف پیش کرنے کے لئے دوپہر ساڑھے تین بجے پریس کانفرنس بلائی تھی۔ وہاں پہچے تو معلوم ہوا کہ پریس کانفرنس میں صرف پاکستانی میڈیا کو شرکت کی اجازت ہوگی۔

بین الاقوامی میڈیا بڑی تعداد میں موجود تھا اور صحافیوں نے اپنی ناارضگی اور "ڈس گسٹ" کا اظہار کرنے میں دیر نہیں لگائی۔

کچھ نے کہا کہ اب تک تو میڈیا کی ہمدردی پاکستان کے ساتھ تھی لیکن اگر بین الاقوامی میڈیا سے بات نہیں کی جائے گی، تو کل اخبارات میں چھپنے والی خبروں کے فوکس کا اندازہ خود لگا سکتے ہیں۔

بہرحال صحافی آتے رہے، ہوٹل کی رسپشنسٹ انہیں یہ کہہ کر باہر بھیجتی رہی کہ وہ مدعو نہیں ہیں، اور میں کھڑا سوچتا رہا کہ میں پاکستانی میڈیا کے زمرے میں آتا ہوں یا بین الاقوامی میڈیا کے۔

بہر حال، انجام کار دو الگ الگ پریس کانفرنس ہوئیں، اور دونوں میں ایک ہی بات دہرائی گئی۔

بعد میں مجھ سے ایک صحافی نے کہا کہ اس تماشے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ لوگ پوری طری کنفوزڈ نظر آتے ہیں۔ اور ان کے ساتھ کوئی میڈیا مینجر کیوں نہیں ہے؟

کنفیوژن ٹیم مینجمنٹ کی حکمت عملی میں مجھے بھی صاف نظر آیا۔ کل جب ٹیم نے پہلی مرتبہ میچ جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا تو اس فیصلے میں پی سی بی کے چئر میں شہریار خان، مینجر ظہیر عباس اور کپتان انضمام الحق کی مرضی شامل تھی۔

ٹیم کھیلنے کے لیے تیار نہیں تھی لیکن ٹیم مینجمنٹ نے کھلاڑیوں کو میدان میں جانے پر مجور کیا۔

اس کے بعد کیا ہوا اس میں دو الگ الگ باتیں کہی جارہی ہیں۔ ایک کے مطابق ٹیم کھیلنے کے لیے تیار نہیں تھی لیکن ٹیم مینجمنٹ نے کھلاڑیوں کو میدان میں جانے پر مجور کیا۔ شہریار خان نے اس بات سے تو انکار کیا لیکن ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کیا کہ انہوں نے کھلاڑیوں کو ان کے فیصلے کے مضمرات کے بارے میں سمجھایا تھا۔

اور مضمرات کیا تھے؟ یہ کہ پاکستان پر بھاری جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آئی سی سی بورڈ اور ٹیم کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے۔
یعنی یہ کہا جاسکتا ہے کہ فوری طور پر تو غصے میں یہ فیصلہ کر لیا گیا، بعد جب اس کے مضمرات کا احساس ہوا، تو بات کو سنبھالنے کی کوشش کی گئی۔
لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

زیادہ تر صحافیوں کا یہ خیال تھا کہ امپائر ڈیرل ہیر نے بغیر کسی ثبوت پاکستان پر یہ الزام لگایا ہے، اور ٹیم کی ناراضگی حق بجانب تھی، لیکن جس طرح سے پاکستانی مینجمنٹ اس مسئلے سے نمٹی، وہ درست نہیں تھا۔
ب
ہر حال، ایک بات بالکل واضح ہے، اور وہ یہ کہ یہ معاملہ آسانی سے ختم نہیں ہونے والا۔

ایک امکان یہ بھی ہے کہ سری لنکا اور پاکستان ڈیر ہیر کے خلاف اپنی اس مہم میں متحد ہو سکتے ہیں اور دونوں بورڈز کے درمیان آج اس سلسلے میں بات چیت بھی ہوئی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ڈیرہیر نے ہی سب سے پہلے متھیا مرلی دھرن کے بولنگ ایکش پر اعتراض کیا تھا۔

جمعہ کو آئی سی سی کے اس فیصلے کی سماعت ہوگی کہ انضمام الحق کی اس کارروائی سے کھیل کی بدنامی ہوئی ہے، اور اگر انضمام پر کچھ میچوں کے لیے پانندی لگا دی گئی، تو یہ مسئلہ اور سنگین نوعیت اختیار کر لے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد