آسٹریلیا میں ڈیرل ہیئر کی حمایت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر، جنہیں پاکستان میں حقارت کا سامنا ہے اور برطانیہ میں بے عزتی کا، انہیں آسٹریلیا میں سراہا جا رہا ہے جہاں انہیں ’کرکٹ کی دنیا کا نڈر ترین شخص‘ قرار دیا گیا ہے۔ آسٹریلوی ماہرین اور ذرائع ابلاغ کے خیال میں ڈیرل ہیئر کو ایک ہی چیز عزیز ہے اور وہ ہیں اصول۔ عمران خان نے انہیں ایک ’چھوٹا ہٹلر‘ قرار دیا جبکہ برصغیر بھر میں انہیں نسل پرست کہا جا رہا ہے۔ آسٹریلیا کے سابق کرکٹ کپتانوں سٹیو وا اور مارک ٹیلر نے ڈیرل ہیئر کا دفاع کرتے ہوئے انہیں ایک اصول پرست امپائر قرار دیا ہے۔ سٹیو واہ نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کے گراؤنڈ میں نہ آنے پر امپائر کا انگلینڈ کو فاتح قرار دینے کا فیصلہ بالکل درست ہے۔’ میں اس سے بالکل اتفاق کرتا ہوں۔ اگر وہ میدان میں نہیں جاتے تو اس کا مطلب ہے کہ میچ ختم۔‘ سڈنی کے اخبار ڈیلی ٹیلیگراف کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی بھی کھلاڑی کھیل سے بڑا نہیں ہوتا تاہم سٹیو وا نے کہا کہ ’ ڈیرل ہیئر ضدی اور ہٹ دھرم تو ہو سکتے ہیں لیکن پاکستان پر بال ٹیمپرنگ جیسا بڑا الزام انہوں نے بلا وجہ نہیں لگایا ہوگا۔‘
سٹیو وا سے پہلے کے آسٹریلوی کپتان مارک ٹیلر نے بھی اس دعوے کو رد کر دیا کہ ڈیرل ہیئر جنوبی ایشا کی ٹیموں کے خلاف تعصب رکھتے ہیں۔ چینل نائن سے بات کرتے ہوئے مارک ٹیلر نے کہا کہ ’میرا خیال ہے وہ وہی کر رہے ہیں جو وہ صحیح سمجھتے ہیں۔‘ آسٹریلوی ذرائع ابلاغ نے بھی ایمپائر ڈیرل ہیئر پر تنقید کو رد کیا ہے۔ ٹیلیگراف کے کرکٹ رپورٹر رابرٹ کریڈک نے ’ کرکٹ کی دنیا کے نڈر ترین شخص‘ کے عنوان کے تحت لکھا کہ کرکٹ کھیلنے والے ایشیائی ٹیموں- پاکستان، بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش_ پر مشتمل مضبوط بلاک ڈیرل ہیئر کو کرکٹ کو خیر آباد کہنے پر مجبور کر دیں گے۔’ یہ قابل افسوس بات ہے کیونکہ کرکٹ کو ایسے کرداروں کی ضرورت ہے جو کسی قسم کی بکواس برداشت نہیں کرتے اور کھیل کو منصفانہ رکھتے ہیں۔‘ رابرٹ کریڈک نے مزید لکھا کہ ’ یہ بات ماننا پڑے گی کہ ڈیرل ہیئر کرکٹ کے کھیل کے ان معاملات میں ٹانگ پھنساتے ہیں جن کے متعلق بات کرتے سے زیادہ تر امپائر انکار کر دیتے ہیں۔‘ اسی طرح سڈنی کے ایک دوسرے اخبار ’مارننگ ہیرالڈ‘ کے کالم نگار فِل ولکنز کے خیال میں بھی ڈیرل ہیئر ایک ایسے امپائر ہیں جو صحیح بات پر ڈٹے رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔’ ہیئر انتہائی اصول پسند شخص ہیں، ایک ایسے اہلکار جو کھیل کے ساتھ بہت مخلص ہیں اور ایک نہایت دینتدار اور نہ ڈگمگانے والے ایمپائر ہیں۔‘ فل ولکنز نے اپنے کالم کا اختتام ان الفاظ پر کیا کہ ’ ڈیرل ہیئر ہمیشہ سے مضبوط ترین کردار کے مالک رہے ہیں اور یہی بات ہے کہ اب ان کو شدید مخالفت کا سامنا ہے۔‘ |
اسی بارے میں انضمام نہیں تو ون ڈے نہیں:وولمر 22 August, 2006 | کھیل ’احتجاج کی وجہ صحیح مگر طریقہ غلط‘21 August, 2006 | کھیل پاکستان کا آئی سی سی سے احتجاج21 August, 2006 | کھیل بال ٹیمپرنگ الزامات کی تاریخ21 August, 2006 | کھیل نہ کھیل، نہ کھلاڑیوں کے لیئے اچھا ہوا21 August, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||