نہ کھیل، نہ کھلاڑیوں کے لیئے اچھا ہوا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں اوول ٹیسٹ میں کرکٹ کی تاریخ کے سب سے افسردہ اختتام ہفتہ کی ساری ذمہ داری میچ حکام پر ڈالوں گا جب پاکستان نے گیند سے چھیڑ چھاڑ کے الزامات کے بعد میچ گنوا دیا۔ امپائر ڈیرک ہیئر کا ایشیائی ٹیموں کے میچوں کے دوران ریکارڈ کافی افسوسناک رہا ہے۔ ان کا میچ کو ختم کرنے کا فیصلہ نہ تو کھیل اور نہ کھلاڑیوں کے لیئے اچھا تھا۔ میں پاکستانی کپتان انضمام الحق کے ڈریسنگ روم میں بطور احتجاج رہنے کے فیصلے کی پوری تائید کرتا ہوں۔ وہ اس کھیل میں ایک قابل احترام شخص ہیں۔ کرکٹ شرفاء کا اور دوستانہ کھیل ہے۔ اس سلسلے میں میچ حکام کی ذمہ داری کافی زیادہ بنتی ہے۔ ہیئر کے سامنے کھیل کر مجھے لگا کہ وہ پولیس والے زیادہ اور جج کم ہے۔ اُن کا رویہ سب کچھ بتا دیتا ہے۔ امپائرز کا فرض بنتا ہے کہ وہ ہر اوور کے بعد گیند کا جائزہ لیں تاکہ اس میں آنے والی تبدیلی پر نظر رکھ سکیں۔ اگر وہ سمجھتے تھے کہ گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہوئی ہے تو وہ پھر انہوں نے اس کی تبدیلی میں اتنی دیر کیوں کی؟ پہلے تو بال ٹیمپرنگ کا مسئلہ جب بھی اٹھا پاکستان کے خلاف اٹھا۔ ہر ٹیم ریورس سوینگ کا استعمال کرتی ہے۔ جب یہ گزشتہ برس ایشز کے دوران انگلینڈ کے لیئے ہوئی تو اسے ایک فن قرار دیا گیا نہ کہ چیٹنگ۔ میں کئی مرتبہ اوول میں کھیل چکا ہوں اور میرے خیال میں تیسویں اوور کے بعد گیند میں تبدیلی آنا شروع ہوجاتی ہے۔ امپائر کا الزام چھپن اوور کے بعد سامنے آیا۔ اگر گیند پر خراش ہو تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس سے چھڑ ہوئی ہے۔ لیکن اتوار کی رات جب میری پاکستانی کھلاڑیوں سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ گیند پر کوئی خراش نہیں تھی۔ اتنے زیادہ کیمرے ہونے کے باوجود کسی نے گیند کو خراب کرنے کی کوشش نوٹ نہیں کی۔ امپائرز نے کبھی بھی انضمام کو گیند کے ساتھ احتیاط برتنے کے لیئے نہیں کہا۔ انہوں نے بغیر کسی تنبیہ کے گیند تبدیل کر دیا۔ ہمارے انیس سو چھیانوے اور دو ہزار ایک کے برطانیہ کے دوروں کے دوران جب بھی گیند خراب ہوتی تھی تو امپائر کپتان کو طلب کرکے تنبیہ کرتے تھے۔ انگلینڈ میں میری ٹیم لیشنگز کے تمام اراکین اس بات پر متفق ہیں کہ ہیئر نے غلط فیصلہ کیا تھا۔ اب تک کے دورے میں انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان اچھے تعلقات رہے ہیں۔ اس تناؤ کا اظہار شاید ایک روزہ میچوں میں ہو تاہم میرے خیال میں وقت کے ساتھ یہ ختم ہو جائے گا۔ تاہم انضمام اور پاکستان کے لیئے اس سے مقابلہ کرنا مشکل ہوجائے گا۔ اس دوران آئی سی سی کو بھی چاہیے کہ وہ اس واقعے سے سبق سیکھے۔ جب ہزاروں لوگ میدان میں اور لاکھوں ٹی وی پر اس کھیل سے جڑے ہوں تو ایک شخص کے پاس اتنی طاقت نہ ہو کہ وہ سارا نقشہ بدل جائے۔ | اسی بارے میں ’ون ڈے سیریز جاری رہے گی‘21 August, 2006 | کھیل پاکستان کا آئی سی سی سے احتجاج21 August, 2006 | کھیل چوتھے روز کا کھیل ختم کر دیا گیا20 August, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||