BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 August, 2006, 11:40 GMT 16:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ون ڈے سیریز جاری رہے گی‘
پاکستان کرکٹ ٹیم
آخری ٹیسٹ کے تنازع اور بدمزگی سے ایک روزہ سیریز کے بارے میں خدشات پیدا ہو گئے
پاکستان کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ اوول ٹیسٹ کے تنازع کے باوجود پاکستان ٹیم انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ میچوں کی سیریز کھیلے گی۔


اوول میں ٹیسٹ سیریز کا آخری میچ امپائرز نے اس وقت ختم کر کے انگلینڈ کو فاتح قرار دیا تھا جب پاکستانی ٹیم چائے کے وقفے کے بعد میدان میں نہیں آئی۔ پاکستان ٹیم کا موقف ہے کہ یہ تاخیر انہوں نے احتجاجاً کی تھی کیونکہ امپائر ڈیرل ہئر نے ان پر گیند خراب کرنے کا الزام لگایا تھا۔

لیکن اس تمام بدمزگی اور تنازع کے باوجود پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکیوٹیو سلیم الطاف نے کہا ہے کہ جہاں تک انہیں پتہ ہے یہ دورہ جاری رہے گا اور ’ایک روزہ میچوں کا ٹیسٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان پیر 28 اگست کو ایک 20/20 میچ کھیلا جانا ہے جس کے بعد پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کھیلی جائے گی۔

لیکن اس شیڈول اور سلیم الطاف کے بیان کے باوجود دورہ جاری رکھنے کا حتمی فیصلہ شائد آئی سی سی کے فیصلے کے بعد ہی ہو سکے گا۔

ادھر پاکستان ٹیم کے کوچ باب وولمر نے کہا ہے کہ انہیں افسوس ہے کہ برطانوی شائقین کو اوول میں آخری دن کا کھیل دیکھنے سے محروم ہونا پڑا ہے لیکن ’ٹیم کا خیال تھا کہ انہیں اپنا اصولی موقف واضح کرنے کی ضرورت تھی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹیم کا یہ موقف صحیح تھا۔ ہم نے چیٹنگ نہیں کی تھی لیکن اس بارے میں جج اور جیوری نے ہم سے رجوع کیے بغیر ہی فیصلہ کر لیا تھا۔‘

 ’ٹیم کا خیال تھا کہ انہیں اپنا اصولی موقف واضح کرنے کی ضرورت تھی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹیم کا یہ موقف صحیح تھا۔ ہم نے چیٹنگ نہیں کی تھی
باب وولمر

باب وولمر نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستانی ٹیم یہ میچ جاری رکھنا چاہتی تھی ’ہم میدان میں جانے والے تھے کہ امپائرز اندر آگئے۔ مسئلہ یہ تھا کہ ان کی واپس آنے کی رفتار ہمارے نکلنے کی رفتار سے تیز تھی۔ اس سارے امر سے بہتر طریقے سے نمٹا جا سکتا تھا۔‘

متنازع آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر نے میچ کے دوران گیند بدلنے اور انگلینڈ کو پانچ پینلٹی رنز دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

امپائر ڈیرل ہیئر کو روزہ سیریز کے لیے تقرر نہیں کیا گیا ہے تاہم کسی امپائر کے
نہ موجود ہونے کی صورت میں وہ ہی /سٹینڈ اِن‘ امپائر ہیں۔

 میں صرف یہ کہوں گا کہ امپائر کا فیصلہ قبول کرنا چاہیے۔ ہمیں یہی سکھایا گیا ہے۔
انگلینڈ کے سابق کپتان ایلک سٹوورٹ

انگلینڈ کے سابق کپتان ایلک سٹیوورٹ نے کہا ہے کہ ’یہ کرکٹ کے لیے ایک انتہائی افسوسناک دن تھا۔‘ ان کے مطابق اس دورے کا جاری رہنا اس لیئے بہت ضروری ہے تاکہ انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان تعلقات خراب نہ ہو جائیں۔ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں صرف یہ کہوں گا کہ امپائر کا فیصلہ قبول کرنا چاہیے۔ ہمیں یہی سکھایا گیا ہے۔‘

انگلینڈ کے کرکٹ بورڈ اور سری کاؤنٹی نے شائقین کو اتوار کے ٹکٹوں کا چالیس فییصد حصہ اور پیر کے ٹکٹوں کی سو فیصد رقم واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آصف اقبالسب سے بڑی غلطی
ڈیرل کا تقرر سب سے بڑی غلطی: آصف اقبال
ڈیرل ہیئراس سے پہلے بھی
ڈیرل ہیئر شہ سرخیوں میں جگہ پاتے رہے ہیں۔
’میں بھی یہی کرتا‘
پاکستان کے احتجاج پر سابق کھلاڑیوں کی آراء
ظہیر عباس نتائج پتہ تھے
ٹیم نےاحتجاج عزت کے لیئے کیا: ظہیر عباس
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد