 | | | انضمام کے احتجاج کا فیصلہ درست تھا: عمران خان |
اوول میں پاکستان اور انگلینڈ کے چوتھے ٹیسٹ میچ کے دوران ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی ٹیم کے میدان میں نہ آنے پر دوسری ٹیم کو فاتح قرار دینے کے واقعے کے بعد بی بی سی نے سابق کھلاڑیوں اور امپائرز سے اس معاملے پر بات کی۔ ناصر حسین، سابق انگلش کپتان کیا ڈیرل ہیئر نے پاکستانی ٹیم کے کسی رکن کو خود گیند خراب کرتے دیکھا؟ کیا ان کے پاس اس کا ثبوت موجود ہے؟ اگر ایسا نہیں تو وہ بہت بڑی غلطی کر بیٹھے ہیں۔ اگر مجھ پر اس قسم کی دھوکہ دہی کا الزام لگتا تو اور مجھے اپنی بےگناہی کا یقین ہوتا تو میں وہی کرتا جو پاکستان نے کیا۔لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو احتجاج کے لیئے کھیل کے اختتام تک انتظار کرنا چاہیئے تھا لیکن پاکستان کے نزدیک اگر وہ کھیلتے رہتے تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کر رہے ہیں۔عمران خان، سابق پاکستانی کپتان پاکستانی کپتان انضمام الحق اور ٹیم کا احتجاج صحیح تھا۔ ایک قوم کا وقار اس بے حس اور مضحکہ خیز فیصلے سے داغدار ہوا ہے۔ڈکی برڈ، سابق ایمپائر میرے خیال میں انہیں میچ مکمل کرنا چاہیئے تھا۔ پاکستان کو اپنے اوپر لگائے گئے الزامات سے تکلیف پہنچی لیکن اصل نقصان تماشائیوں کا ہوا۔ میں ہوتا تو تماشائیوں کے لیئے کھیل جاری رکھتا۔ چاہیئے تو یہ تھا کہ میچ کے بعد سب بات کرتے اور اس معاملے کو حل کرتے۔جیفری بائیکاٹ، سابق انگلش کھلاڑی آئی سی سی یقیناً یا تو احمق ہے یا پھر نابینا جو اسے اب تک یہ نہیں پتہ چل سکا کہ ڈیرل ہیئر اور پاکستانی ٹیم کے تعلقات ماضی میں بھی زیادہ خوشگوار نہیں رہے ہیں۔ ہیڈنگلے ٹیسٹ کے بعد بھی یہی چہ مہ گوئیاں ہو رہی تھیں کہ پاکستانی ٹیم کو ہیئر کا رویہ پسند نہیں۔ پاکستان کو ڈیل ہیئر کی ’مین مینجمنٹ‘ کے طریقے پر بھی اعتراض ہے۔ آئی سی سی کی جانب سے ہیئر کا پاکستان کی سیریز کے لیئے انتحاب ایک ایسے آتش فشاں کی مانند تھا جب کبھی بھی پھٹ سکتا تھا۔رمیز راجہ، سابق پاکستانی بلے باز اس سارے شو کا سٹار ڈیرل ہیئر تھا لیکن اس کا کردار ولن کا ہے۔ ان کے بے حس انداز سے فیصلہ دینے کے سٹائل نے اوول میں بلاوجہ تنازعہ کھڑا کر دیا جس سے نہ صرف ٹیسٹ میچ ختم کرنا پڑا بلکہ کرکٹ کا کھیل بھی بدنام ہوا۔این بوتھم، سابق انگلش کپتان، کمنٹریٹر آئی سی سی گراؤنڈ میں موجود تیئس ہزار تماشائیوں اور لاکھوں ٹی وی شائقین کو اندھیرے میں رکھنے کی ذمہ دار ہے۔ اور پھر چوتھے ٹیسٹ کے وہ منتظمین جو حقیقت کو افسانے سے الگ کر کے حالات قابو میں لا سکتے تھے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے اوول ٹیسٹ اپنے برے نتیجے کی وجہ سے یاد رکھا جائےگا۔ضروری تھا کہ وہ ایک بیان دیتے کہ دراصل گیند کیوں تبدیل کی گئی، انہوں نے کیا دیکھا اور کون کون اس میں ملوث ہے اور جب تک ایسا نہیں کیا جائےگا اس وقت تک یہ تمام پاکستانی ٹیم پر دھوکہ دہی کے الزام کے مترادف ہے۔ | |  |