BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 August, 2006, 09:54 GMT 14:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’میں بھی ہوتا تو یہی کرتا‘
انضمام کے احتجاج کا فیصلہ درست تھا: عمران خان
اوول میں پاکستان اور انگلینڈ کے چوتھے ٹیسٹ میچ کے دوران ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی ٹیم کے میدان میں نہ آنے پر دوسری ٹیم کو فاتح قرار دینے کے واقعے کے بعد بی بی سی نے سابق کھلاڑیوں اور امپائرز سے اس معاملے پر بات کی۔

ناصر حسین، سابق انگلش کپتان
کیا ڈیرل ہیئر نے پاکستانی ٹیم کے کسی رکن کو خود گیند خراب کرتے دیکھا؟ کیا ان کے پاس اس کا ثبوت موجود ہے؟ اگر ایسا نہیں تو وہ بہت بڑی غلطی کر بیٹھے ہیں۔ اگر مجھ پر اس قسم کی دھوکہ دہی کا الزام لگتا تو اور مجھے اپنی بےگناہی کا یقین ہوتا تو میں وہی کرتا جو پاکستان نے کیا۔لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو احتجاج کے لیئے کھیل کے اختتام تک انتظار کرنا چاہیئے تھا لیکن پاکستان کے نزدیک اگر وہ کھیلتے رہتے تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کر رہے ہیں۔

عمران خان، سابق پاکستانی کپتان
پاکستانی کپتان انضمام الحق اور ٹیم کا احتجاج صحیح تھا۔ ایک قوم کا وقار اس بے حس اور مضحکہ خیز فیصلے سے داغدار ہوا ہے۔

ڈکی برڈ، سابق ایمپائر
میرے خیال میں انہیں میچ مکمل کرنا چاہیئے تھا۔ پاکستان کو اپنے اوپر لگائے گئے الزامات سے تکلیف پہنچی لیکن اصل نقصان تماشائیوں کا ہوا۔ میں ہوتا تو تماشائیوں کے لیئے کھیل جاری رکھتا۔ چاہیئے تو یہ تھا کہ میچ کے بعد سب بات کرتے اور اس معاملے کو حل کرتے۔

جیفری بائیکاٹ، سابق انگلش کھلاڑی
آئی سی سی یقیناً یا تو احمق ہے یا پھر نابینا جو اسے اب تک یہ نہیں پتہ چل سکا کہ ڈیرل ہیئر اور پاکستانی ٹیم کے تعلقات ماضی میں بھی زیادہ خوشگوار نہیں رہے ہیں۔ ہیڈنگلے ٹیسٹ کے بعد بھی یہی چہ مہ گوئیاں ہو رہی تھیں کہ پاکستانی ٹیم کو ہیئر کا رویہ پسند نہیں۔ پاکستان کو ڈیل ہیئر کی ’مین مینجمنٹ‘ کے طریقے پر بھی اعتراض ہے۔ آئی سی سی کی جانب سے ہیئر کا پاکستان کی سیریز کے لیئے انتحاب ایک ایسے آتش فشاں کی مانند تھا جب کبھی بھی پھٹ سکتا تھا۔

رمیز راجہ، سابق پاکستانی بلے باز
اس سارے شو کا سٹار ڈیرل ہیئر تھا لیکن اس کا کردار ولن کا ہے۔ ان کے بے حس انداز سے فیصلہ دینے کے سٹائل نے اوول میں بلاوجہ تنازعہ کھڑا کر دیا جس سے نہ صرف ٹیسٹ میچ ختم کرنا پڑا بلکہ کرکٹ کا کھیل بھی بدنام ہوا۔

این بوتھم، سابق انگلش کپتان، کمنٹریٹر
آئی سی سی گراؤنڈ میں موجود تیئس ہزار تماشائیوں اور لاکھوں ٹی وی شائقین کو اندھیرے میں رکھنے کی ذمہ دار ہے۔ اور پھر چوتھے ٹیسٹ کے وہ منتظمین جو حقیقت کو افسانے سے الگ کر کے حالات قابو میں لا سکتے تھے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے اوول ٹیسٹ اپنے برے نتیجے کی وجہ سے یاد رکھا جائےگا۔ضروری تھا کہ وہ ایک بیان دیتے کہ دراصل گیند کیوں تبدیل کی گئی، انہوں نے کیا دیکھا اور کون کون اس میں ملوث ہے اور جب تک ایسا نہیں کیا جائےگا اس وقت تک یہ تمام پاکستانی ٹیم پر دھوکہ دہی کے الزام کے مترادف ہے۔
آصف اقبالسب سے بڑی غلطی
ڈیرل کا تقرر سب سے بڑی غلطی: آصف اقبال
ڈیرل ہیئراس سے پہلے بھی
ڈیرل ہیئر شہ سرخیوں میں جگہ پاتے رہے ہیں۔
ظہیر عباس نتائج پتہ تھے
ٹیم نےاحتجاج عزت کے لیئے کیا: ظہیر عباس
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد