BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 August, 2006, 05:08 GMT 10:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ڈیرل کا تقرر سب سے بڑی غلطی‘
آصف اقبال
جب امپائروں نے ٹیم کو آتے ہوئے دیکھا تھا تو انہیں بھی آ جانا چاہیے تھا
پاکستان کے سابق کپتان آصف اقبال نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں تنازعے میں سب سے بڑی غلطی اس ٹیسٹ کے لیئے ڈیرل ہیئر کا تقرر تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان کو ڈیرل ہیئر سے شکایت ہوئی ہو اور پاکستان ہی نہیں ان سے انڈیا اور سری لنکا بھی مطمئن نہیں رہتے۔

بی بی سی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایڈیلڈ میں ان کی وجہ سےرانا ٹنگا ٹیم کو لے کر باہر چلے گئے۔

پاکستان کو اس وقت شکایت ہوئی جب وہ انڈیا کے خلاف کھیل رہا تھا۔ انہوں نے انضمام کو اس وقت رن آؤٹ دے دیا جب وہ نہ تو رن لے رہے تھے اور نہ ہی رن لینے کا ارداہ رکھتے تھے اور نہ ہی رولز کے مطابق انہیں آؤٹ دیا جا سکتا تھا۔

اس سول کے جواب میں کہ کیا امپائر ڈیرل نے فیصلہ ضوابط کے خلاف کیا؟ انہوں نہ کہا کہ اس کے باوجود کہ انضمام ان کے پاس گئے انہوں نے کوئی توجہ نہیں دی۔ یہ نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ پاکستان کے ساتھ ہی نہیں کسی بھی ٹیم کے ساتھ نہیں ہونا چاہیئے۔

آصف اقبال نے کہا کہ رولز کے مطابق ڈیرل نے یہ غلطی کی کہ اگر انہیں بال تبدیل کرنی تھی تو فیلڈ کیپٹن کو بتانا چاہیئے تھا کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں اور کیوں کرنا چاہتے ہیں، لیکن سب نے ٹی وی پر دیکھا کہ انضمام ان کے پاس گئے لیکن انہوں کوئی توجہ نہیں دی۔

ڈیرل ہیئر میچ ختم کرنے کا اشارہ کرتے ہوئے

اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان نے ضوابط کو جانتے ہوئے چائے کے وقفے کے بعد آنے میں تاخیر کیوں کی؟ آصف نے کہا کہ انہیں اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا چاہیئے تھا اور انہوں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور اس کے بعد سب نے دیکھا کہ ٹیم باہر آ رہی ہے اور امپائر واپس جا رہے ہیں۔

آصف کا کہنا ہے کہ جب امپائروں نے ٹیم کو آتے ہوئے دیکھا تھا تو انہیں بھی آ جانا چاہیے تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ضابطوں اور قوانین کا اطلاق سب پر ہونا چاہیئے چاہے کوئی کھلاڑی ہو یا امپائر۔ ڈیرل ہیئر کو معاملے کی حساس نوعیت کو محسوس کرنا چاہیے تھا اور اس بات کو بھی کہ انہوں نے کیا کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد