بال ٹیمپرنگ الزامات کی تاریخ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کرکٹ میں بال ٹیمپرنگ کوئی نئی چیز نہیں، اس کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ ماضی میں ٹیسٹ اور ایک روزہ میچوں میں بال ٹیمپرنگ کے الزامات کی بنیاد پر نہ صرف کئی تنازعات نے جنم لیا بلکہ اس کی بنیاد پر کئی کھلاڑیوں کو سزا بھی ہو چکی ہے۔ اگرچہ گزشتہ چودہ سال کے دوران انڈیا، انگلینڈ اور دیگر ٹیموں کو بال ٹیمپرنگ کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن پاکستان کی ٹیم کو بال ٹیمپرنگ کے تنازعات میں مرکزی کردار حاصل رہا ہے۔ بال ٹیمپرنگ کے الزامات کی زد میں آنے والی پہلی ٹیم پاکستان تھی جسے 1992 کے دورہءِ پاکستان کے دوران ان الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب وسیم اکرم اور وقار یونس کی ریورس سوئنگ کا طوطی بولتا تھا اور پاکستان نے انگلینڈ کو ٹیسٹ سیریز میں دو ایک شکست دی تھی۔
لارڈز میں کھیلے جانے والے ایک روزہ میچ کے دوران امپائر کین پامر اور جان ہیمشائر نے وقفے کے دوران بال کو تبدیل کرنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن مسلسل اصرار کے باوجود آئی سی سی نے نہ تو تبدیل کی گئی بال کو میڈیا کے سامنے پیش کیا اور نہ ہی امپائروں کی رپورٹ کو جاری کیا۔ اگرچہ پاکستانی میڈیم پیسر سرفراز نواز کو ریورس سوئنگ کے فن کا بانی مانا جاتا ہے لیکن ان فن کو بامِ عروج تک پہنچانے کا سہرا وسیم اکرم اور وقار یونس کے سر ہے۔ تاہم جب بھی ریورس سوئنگ کے ان عظیم ’فنکاروں‘ کا ذکر آتا ہے، ساتھ ہی بال ٹیمپرنگ سے متعلق کھڑے ہونے والے تنازعات کی گونج بھی سنائی دیتی ہے۔ کچھ اسی طرح 1992 میں پاکستان کی عالمی کپ میں فتح کے بعد ہوا۔ انگلینڈ کے عظیم آل راؤنڈر این بوتھم نے اپنی خودنوشت سوانح عمری ’ڈونٹ ٹیل کیتھ‘ میں لکھا کہ 1992 کی سیریز میں انہوں نے خود پاکستانی بالروں کو گیند کے ساتھ ’چھیڑ چھاڑ کرتے دیکھا۔
پاکستانی کپتان عمران خان نے جب ان الزامات کا جواب دیا تو بوتھم اور ایلن لیمب نے ان کے خلاف لندن کی ایک عدالت میں ہتک عزت کا مقدمہ دائر کر دیا۔ بوتھم اور لیمب نے اپنے مقدمے میں بال ٹیمپرنگ سے متعلق دو کالموں کو بنیاد بنایا جن میں شامل عمران خان کے بیانات ہتک عزت کے زمرے میں آتے ہیں۔ بوتھم اور لیمب کی رٹ پٹیشن میں بھارتی میگزین انڈیا ٹوڈے کو بھی شامل کیا گیا تھا جس میں، ان کے بقول، عمران خان نے انہیں نسل پرست قرار دیا تھا اور ان کے رویے کی وجوہات کو ’تعلیم کی کمی، گھٹیا حسب نسب اور ماں باپ کی تربیت‘ میں ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی۔ ب
عدالت نے عمران خان کی وکلاء کی یہ دلیل تسلیم کر لی کہ ان کے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور یہ کہ اپنے اس بیان کے خلاف اپنا دفاع کرنے کی کوشش کر رہے تھے جس میں انہوں نے کاؤنٹی کرکٹ کے دوران بال ٹیمپرنگ کا اعتراف کیا تھا۔ 1994 میں دیئے گئے اس بیان میں عمران نے کہا تھا کہ سسیکس کی طرف سے کھیلتے ہوئے وہ کبھی کبھی بال کو کھرچ لیتے تھے اور بال کی سیم کو اٹھا لیتے تھے۔ انگلینڈ کے سابق کپتان مائیک اتھرٹن کو 1994 میں جنوبی افریقہ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں بال ٹیمپرنگ کے الزامات کا سامنا پڑا تھا۔ انہیں ٹی وی سکرین پر جیب سے گرد نکال کر گیند پر ملتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ پاکستانی فاسٹ بالر وقار یونس کو 2000 میں سری لنکا میں سنگر کپ کے سلسلے میں کھیلے گئے ایک ون ڈے میچ میں بال کو خراب کرنے کی پاداش میں ایک میچ کے لیئے معطل کر دیا گیا تھا۔ وہ کرکٹ کی تاریخ میں اس الزامات کے تحت معطل ہونے والے پہلے کھلاڑی تھے۔ بال ٹیمپرنگ کے الزام میں معطل ہونے والے دوسرے کھلاڑی شعیب اختر تھے جنہیں نومبر 2002 میں زمبابوے کے خلاف ہرارے میں ہونے والے ٹیسٹ میچ میں بال کو خراب کی پاداش میں دو میچوں کے لیئے ٹیم سے باہر کر دیا گیا تھا۔ انڈیا کے دو کھلاڑی سچن تندلکر اور راہول ڈراوڈ بھی بال ٹیمپرنگ کے الزامات کی زد میں چکے ہیں۔ سچن کو نومبر 2001 میں جنوبی افریقہ کے خلاف ایک ٹیسٹ میں بال ٹیمپرنگ کرنے پر ایک میچ کے لیئے معطل کر دیا گیا اور انہیں میچ فیس کے 75 فیصد کے برابر جرمانہ ادا کرنے کو کہا گیا۔ راہول ڈراوڈ کو جنوری 2004 میں زمبابوے کے خلاف ایک میچ میں بال کو خراب کرنے کے الزام میں آدھی میچ فیس جرمانے کے طور پر ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||