’احتجاج کی وجہ صحیح مگر طریقہ غلط‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم کے اوول ٹیسٹ کے چوتھے دن چائے کے وقفے کے بعد احتجاجاً میدان میں نہ آنے اور اس پر انگلینڈ کی ٹیم کو اس ٹیسٹ میچ میں فاتح قرار دینے پر پاکستان کے سابق کرکٹرز مختلف آراء رکھتے ہیں۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کرکٹ ٹیم کا احتجاج کرنے کا طریقہ درست نہیں تھا لیکن ایمپائر ڈیرل ہیرل نے غلط کیا تھا اور یہ تنازعہ ان کے نامناسب رویے کی وجہ سے شروع ہوا۔ 1992 کے عالمی کپ کی فاتح پاکستان ٹیم کے کپتان عمران خان نے کہا کہ اگر وہ انضمام کی جگہ ہوتے تو جس وقت ایمپائر ڈیرل ہئیر نے ٹیم پر بال ٹیمپر کرنے کا الزام لگایا تھا اسی وقت احتجاج کرتے۔ عمران خان نے کہا کہ انضمام کو چاہئیے تھا کہ ایمپائر سے کہتے کہ وہ اس الزام کا ثبوت پیش کریں اور اگر وہ ثبوت پیش نہ کر سکتے تو اسی وقت ٹیم مینجر کو بلوا کر اپنا احتجاج رجسٹر کرواتے ان کے بقول انضمام کا چائے کے وقفے کے بعد آنے سے انکار کرنے کا اقدام ٹھیک نہیں تھا۔
خود عمران خان کے الفاظ میں ’کھیل چھوڑنا ان کی حماقت تھی کیونکہ اوول کے میدان میں بیٹھے ہوئے بیس ہزار تماشائیوں کا کیا قصور تھا۔‘ انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے پاکستان کی ٹیم جیتا ہوا میچ ہار گئی۔ عمران نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ سٹڈیم میں موجود پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام بالا بھی اس مسئلے سے بہتر طور پر نمٹ نہیں سکے۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے ایک اور سابق کپتان انتخاب عالم نے پاکستانی کھلاڑیوں کے احتجاج کو بلاضرورت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’آئی سی سی کے قانون میں واضح لکھا ہے کہ ایمپائر اگر گیند میں کوئی تبدیلی دیکھے تو وہ اسے بدل سکتا ہے۔‘ انتخاب عالم ٹیم نے جو منیجر بھی رہ چکے ہیں، کہا کہ اگر ٹیم کو ایمپائر کے فیصلے سے اختلاف ہے تو کرکٹ بورڈ کو چاہیئے کہ وہ آئی سی سی کو خط لکھ کر بھر پور احتجاج کرے۔ انتخاب عالم نے کہا کہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پاکستان کی ٹیم کو آئی سی سی کے قوانین کا علم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میچ ریفری مائیک پروکٹر نے قوانین کےمطابق فیصلہ کیا ہے۔ سابق فاسٹ بالر عاقب جاوید نے کہا کہ ٹیم کی انتظامیہ نے پاکستان کی کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ایک ماہ سے اصرار کر رہے ہیں کہ ’پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان غیر ملکی ایمپائر کے ساتھ بہتر انداز سے گفتگو کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔‘ عاقب جاوید نے کہا کہ اسی قسم کی صورتحال انیس سو بانوے میں لارڈز ٹسٹ کے دوران پیش آئی تھی جب پاکستان پر اسی طرح گیند کو خراب کرنے کا الزام لگا۔
انہوں نے کہا کہ ’ اس وقت جاوید میاں داد کپتان اور انتخاب عالم ٹیم منیجر تھے تاہم انہوں نے انتہائی دانشمندانہ فیصلہ کرتے ہوئے میچ جاری رکھا اور فتح کے بعد پاکستان نے آئی سی سی کے ساتھ احتجاج کیا تھا۔‘ انہوں نے صدر پاکستان سے اپیل کی کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے عہدیداروں اور ٹیم کے کپتان کو تبدیل کیا جائے۔ پاکستان کے سابق کپتان آصف اقبال نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں تنازعے میں سب سے بڑی غلطی اس ٹیسٹ کے لیئے ڈیرل ہیئر کا تقرر تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان کو ڈیرل ہیئر سے شکایت ہوئی ہو اور پاکستان ہی نہیں ان سے انڈیا اور سری لنکا بھی مطمئن نہیں رہتے۔ آصف اقبال نے کہا کہ رولز کے مطابق ڈیرل نے یہ غلطی کی کہ اگر انہیں بال تبدیل کرنی تھی تو فیلڈ کیپٹن کو بتانا چاہیئے تھا کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں اور کیوں کرنا چاہتے ہیں، لیکن سب نے ٹی وی پر دیکھا کہ انضمام ان کے پاس گئے لیکن انہوں کوئی توجہ نہیں دی۔ |
اسی بارے میں ’میں بھی ہوتا تو یہی کرتا‘21 August, 2006 | کھیل انضمام پر کھیل کو بدنام کرنے کا الزام21 August, 2006 | کھیل اوول تنازعہ اخبارات کی نظر میں21 August, 2006 | کھیل ’ون ڈے سیریز جاری رہے گی‘21 August, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||