ڈیرل ہیئر قوانین کے مطابق تھے: محبوب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق ٹیسٹ امپائر محبوب شاہ کے خیال میں اوول ٹیسٹ میں بال ٹمپرنگ اور اس کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم کا احتجاج اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ محبوب شاہ کا شمار تجربہ کار امپائرز میں ہوتا ہے جنہوں نے28 ٹیسٹ اور 32ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں امپائرنگ کی ہے ان کے کریڈٹ پر1987 کآ عالمی کپ فائنل بھی ہے۔ محبوب شاہ کی ذاتی رائے یہ ہے کہ اوول ٹیسٹ میں امپائر ڈیرل ہیئر قوانین کے تحت درست تھے۔قواعد وضوابط کا خیال رکھا گیا کیونکہ گیند کا بار بار امپائرز معائنہ کرتے ہیں اور جب انہیں اس بات کا یقین ہوا ہوگا کہ گیند میں گڑبڑ ہوئی ہے تو انہوں نے باہمی مشورے سے گیند تبدیل کردی۔ محبوب شاہ کے خیال میں بال ٹمپرنگ صرف گیند کو کھرچنے کا نام نہیں ہے بلکہ سلائی ابھارنا، گیند کے جوڑ کو کھولنا کسی بیرونی شے سے گیند کو چمکانا یا اسے زمین پر رگڑنا بھی بال ٹمپرنگ میں شمار ہوتا ہے تاہم یہ فیصلہ کرتے وقت احتیاط بھی برتی جاتی ہے کیونکہ بعض اوقات گیند بلے کی ضرب، باؤنڈری کے جنگلے اور کھلاڑی کے جوتے کی کیل وغیرہ سے بھی خراب ہوجاتی ہے ۔ محبوب شاہ کہتے ہیں کہ اگر امپائرز کے خیال میں بال میں ٹمپرنگ ہوئی ہے تو پھر ان کے فیصلے سے انحراف نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستانی ٹیم کھیل جاری رکھتی اور بعد میں اس معاملے پر شدید احتجاج کرتی۔ میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کسی طور پر بھی مناسب نہیں تھا۔ سابق پاکستانی امپائر کے مطابق جس گیند پر اعتراض کرکے اسے تبدیل کیا جاتا ہے وہ آئی سی سی کے پاس محفوظ رہتی ہے لہذا پاکستانی ٹیم کے پاس موقع تھا کہ وہ میچ جاری رکھتی اور بعد میں امپائر کے فیصلے کو چیلنج کرتی کہ اس نے گیند کے ساتھ کوئی گڑ بڑ نہیں کی ہے۔ محبوب شاہ کے خیال میں امپائر اس بات کا پابند نہیں ہے کہ وہ بال ٹمپرنگ کا ثبوت پیش کرے اگر اس کی دانست میں گیند کے ساتھ گڑ بڑ ہوئی ہے تو وہ گیند تبدیل کرکے حریف ٹیم کو پنالٹی کے پانچ رنز دے سکتا ہے۔ البتہ وہ فیلڈنگ کپتان اور بیٹسمینوں کو یہ ضرور بتائے گا کہ اس نے بال ٹمپرنگ کے سبب گیند تبدیل کی ہے۔ محبوب شاہ کے مطابق گیند اب انضمام الحق کے کورٹ میں ہے ۔سماعت میں انہیں یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کی ٹیم نےگیند کے ساتھ گڑبڑ نہیں کی ہے۔ اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ گیند کے ساتھ دانستہ گڑبڑ نہیں ہوئی ہے تو یہ ممکن ہے کہ امپائر کے خلاف کارروائی عمل میں آئے۔ محبوب شاہ یہ ماننے کے لیئے تیار نہیں کہ بین الاقوامی کرکٹ سفید اور غیرسفیدفاموں میں بٹ چکی ہے۔ بات وہیں آکر رک جاتی ہے کہ امپائر ایسے فیصلے کرتے ہیں جو ان کی دانست میں درست ہوتے ہیں لیکن بہت لوگوں کے لیئے قابل قبول نہیں ہوتے جیسا کہ مرلی دھرن کو نوبال دینے کا ہیئر کا فیصلہ ہے جس میں ہیئر اب بھی یہ یقین سے کہتے ہیں کہ وہ یہ فیصلہ دیتے وقت درست تھے۔ | اسی بارے میں ہئیر :استعفے کے لیے5 لاکھ ڈالر 25 August, 2006 | کھیل ڈیرل ہیئر: متنازع فیصلوں کے بادشاہ 21 August, 2006 | کھیل آسٹریلیا میں ڈیرل ہیئر کی حمایت22 August, 2006 | کھیل سماعت:تاریخ کا اعلان آج متوقع 25 August, 2006 | کھیل ’ہئیر سے تحقیقات پہلے کریں‘29 August, 2006 | کھیل قوانین یکساں ہونےچاہئیں:شہریار11 September, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||