پاکستان کی فتح ہوئی: انضمام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹیسٹ میچ میں چیٹنگ یا دھوکہ دہی کے الزام سے بریت کو انضمام الحق نے ’پاکستان کے لیئے فتح‘ قرار دیا ہے۔ آئی سی سی کی انضباطی انکوائری شروع ہونے سے قبل بھی انضمام نے کہا تھا کہ بال ٹیمپرنگ کا الزام ان کی ٹیم کی شہرت پر ایک دھبہ ہے۔ جمعرات کو آئی سی سی نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ٹیم پر بال ٹیمرنگ کا الزام ثابت نہیں ہوا ہے۔ آئی سی سی کے سامنے پیشی کے بعد انضمام نے کہا کہ ’یہ ٹیم کی عزت کا معاملہ تھا کیونکہ بال ٹیمپرنگ کے الزام کا مطلب یہ تھا کہ ہم نے ٹیسٹ میچ میں بے ایمانی کی ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا ’تمام قوم نے ہمارے فیصلے کی تائید کی کیونکہ یہ ٹیم کے علاوہ ملک کے وقار کا مسئلہ تھا۔ ہم اس چیز کے لیئے لڑے جو ہمارے خیال میں ہمارا حق تھا۔‘ انضمام الحق نے کہا کہ وہ چار میچوں کی پابندی کے خلاف اپیل نہیں کریں گے۔ فیصلے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین شہریار خان نے کہا ’ ہم بہت مطمعن ہیں اور (انضباطی کارروائی) کا پورا عمل منصفانہ تھا۔‘ جمعرات کو اختتام پزیر ہونے والی اس کارروائی میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اپمائر ڈیرل ہیئر عنقریب بھارت میں ہونے والی چیمپئنزٹرافی میں ’حفاظت اور سکیورٹی کے بارے میں تحفظات‘ کی وجہ سے امپائرنگ کے فرائص انجام نہیں دیں گے۔ انضباطی کارروائی کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد ڈیرل ہیئر نے اوول ٹیسٹ کے دوران ہونے والے واقعہ کے بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی ریٹائر ہونے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔ ڈیرل ہیئر نے کہا ’میں چاہتا ہوں کہ امپائرنگ کرتا رہوں۔ بطور اپمائر میری کارکردگی یا میرا کیرئر لوگوں کے سامنے ہے اور اگر کوئی دوسرے لوگ سمجھتے ہیں کہ میں امپائرنگ کے لیئے اچھا ہوں تو میں امپائرنگ کرتا رہوں گا۔‘ | اسی بارے میں انضمام بال ٹیمپرنگ کے الزام سے بری28 September, 2006 | کھیل انضمام سماعت: کارروائی مکمل27 September, 2006 | کھیل ڈیرل ہیئر قوانین کے مطابق تھے: محبوب25 September, 2006 | کھیل ’آئی سی سی نہیں عدالت جانا چاہیے‘22 September, 2006 | کھیل انضی کا ’پیر پر کلہاڑی مارنا‘12 September, 2006 | کھیل قوانین یکساں ہونےچاہئیں:شہریار11 September, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||