’مالی نقصان پورا نہیں کرینگے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہریارخان نے واضح کردیا ہے کہ اوول ٹیسٹ وقت سے پہلے ختم ہونے سے میزبانوں کو جو مالی نقصان ہوا ہے وہ پاکستان کرکٹ بورڈ برداشت نہیں کرے گا۔ انگلینڈ کرکٹ بورڈ اوول ٹیسٹ ختم ہونے کی صورت میں تماشائیوں کو ٹکٹ کے پیسوں کی واپسی، سکیورٹی اور ٹی وی نشریات کی مد میں ہونے والے لاکھوں پاؤنڈ کے نقصان کی تلافی کے لیئے جلد ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کو تحریری طور پر آگاہ کرنے والا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہریارخان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اس نقصان کو پورا کرنے کے لیئے تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے اس بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ سے باقاعدہ بات نہیں کی اور نہ ہی اخراجات کا بل بھیجا ہے ابھی تو یہ طے ہونا باقی ہے کہ اس صورتحال کا ذمہ دار کون تھا؟
پی سی بی کے سربراہ نے کہا کہ رنجن مدوگالے کے تفصیلی فیصلے کے بعد جو بات سامنے آئی ہے کہ امپائروں کو کپتان کو موقع دینا چاہیئےتھا اور میچ جاری رکھنے کی ہرممکن کوشش کرنی چاہیئے تھی جو انہوں نے نہیں کیا اور میچ ختم کردیا۔ اس تناظر میں دیکھا جائےگا کہ اس معاملے میں آئی سی سی کیا قدم اٹھاتی ہے کیونکہ ایک غلطی کی سزا پاکستانی کپتان کو مل چکی ہے اب دوسری غلطی کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ شہریارخان نے تسلیم کیا کہ پاکستانی ٹیم کو انہوں نے مختصر وقت کے لیئے احتجاج کے لیئے کہا تھا اور ظہیرعباس کا الزام بے بنیاد ہے کہ وہ احتجاج کے محرک تھے۔ شہریارخان کا کہنا ہے کہ جب امپائر ہیئر نے بال ٹمپرنگ پر سزا کے طور پر پانچ رن دے دیئے تو انضمام الحق کو اس کا پتہ ہی نہیں تھا کہ بال ٹمپرنگ کے بارے میں امپائر اپنا فیصلہ صادر کرچکے ہیں۔ جب ٹیم کو ڈریسنگ روم میں پتہ چلا تو قدرتی بات ہے کہ وہ اس داغ کو مٹانے کے سلسلے میں جذباتی تھی۔ شہریارخان کا کہنا ہے کہ وہ سماعت سے مکمل طور پر مطمئن ہیں اور ان کے خیال میں اس فیصلے سے پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے۔ | اسی بارے میں پاکستان تنازع: امپائروں کو تنبیہ30 September, 2006 | کھیل انضمام کی سزا، جواب طلب سوالات01 October, 2006 | کھیل انضمام بری: دنیا بھر میں شہ سرخیاں29 September, 2006 | کھیل کرکٹ ماہرین نے پانسہ پلٹ دیا 29 September, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||