BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 October, 2006, 11:47 GMT 16:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مالی نقصان پورا نہیں کرینگے‘

شہریار خان
’فیصلے سے پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے‘
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہریارخان نے واضح کردیا ہے کہ اوول ٹیسٹ وقت سے پہلے ختم ہونے سے میزبانوں کو جو مالی نقصان ہوا ہے وہ پاکستان کرکٹ بورڈ برداشت نہیں کرے گا۔

انگلینڈ کرکٹ بورڈ اوول ٹیسٹ ختم ہونے کی صورت میں تماشائیوں کو ٹکٹ کے پیسوں کی واپسی، سکیورٹی اور ٹی وی نشریات کی مد میں ہونے والے لاکھوں پاؤنڈ کے نقصان کی تلافی کے لیئے جلد ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کو تحریری طور پر آگاہ کرنے والا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہریارخان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اس نقصان کو پورا کرنے کے لیئے تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے اس بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ سے باقاعدہ بات نہیں کی اور نہ ہی اخراجات کا بل بھیجا ہے ابھی تو یہ طے ہونا باقی ہے کہ اس صورتحال کا ذمہ دار کون تھا؟

انضمام لا علم تھے
 جب امپائر ہیئر نے بال ٹمپرنگ پر سزا کے طور پر پانچ رن دے دیئے تو انضمام الحق کو اس کا پتہ ہی نہیں تھا کہ بال ٹمپرنگ کے بارے میں امپائر اپنا فیصلہ صادر کرچکے ہیں۔ جب ٹیم کو ڈریسنگ روم میں پتہ چلا تو قدرتی بات ہے کہ وہ اس داغ کو مٹانے کے سلسلے میں جذباتی تھی
شہریارخان
شہریارخان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی سے کہہ رکھا ہے کہ وہ ڈیرل ہیئر کے معاملے کی بھی تحقیقات کرے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ پاکستان کے میچوں میں ڈیرل ہیئر کی تعیناتی غیرموزوں سمجھتا ہے۔

پی سی بی کے سربراہ نے کہا کہ رنجن مدوگالے کے تفصیلی فیصلے کے بعد جو بات سامنے آئی ہے کہ امپائروں کو کپتان کو موقع دینا چاہیئےتھا اور میچ جاری رکھنے کی ہرممکن کوشش کرنی چاہیئے تھی جو انہوں نے نہیں کیا اور میچ ختم کردیا۔

اس تناظر میں دیکھا جائےگا کہ اس معاملے میں آئی سی سی کیا قدم اٹھاتی ہے کیونکہ ایک غلطی کی سزا پاکستانی کپتان کو مل چکی ہے اب دوسری غلطی کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔

شہریارخان نے تسلیم کیا کہ پاکستانی ٹیم کو انہوں نے مختصر وقت کے لیئے احتجاج کے لیئے کہا تھا اور ظہیرعباس کا الزام بے بنیاد ہے کہ وہ احتجاج کے محرک تھے۔

شہریارخان کا کہنا ہے کہ جب امپائر ہیئر نے بال ٹمپرنگ پر سزا کے طور پر پانچ رن دے دیئے تو انضمام الحق کو اس کا پتہ ہی نہیں تھا کہ بال ٹمپرنگ کے بارے میں امپائر اپنا فیصلہ صادر کرچکے ہیں۔ جب ٹیم کو ڈریسنگ روم میں پتہ چلا تو قدرتی بات ہے کہ وہ اس داغ کو مٹانے کے سلسلے میں جذباتی تھی۔

شہریارخان کا کہنا ہے کہ وہ سماعت سے مکمل طور پر مطمئن ہیں اور ان کے خیال میں اس فیصلے سے پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد